geourdu logo
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
    • Geo Team
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • فنانس
  • شاعری
Dark Mode
Skip to content
June 10, 2026
  • Geo Urdu France
  • Prayer Times
  • Finance
  • Currency Rate
  • Gold Rates
  • ENGLISH
  • –
  • FRENCH
geourdu logo
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم
    • طاہر محمود بھٹی: سانتیے کے عروج سے ٹیکس فراڈ کی سزا تک
    • 83% of French Parents Report Verbally Abusing Their Childrenفرانس میں والدین کی بڑی تعداد بچوں کے ساتھ تشدد کا اعتراف، نئی رپورٹ میں ہوش ربا انکشافات
    • Why Turkey Eggs Are Rarely on Our Platesکیا آپ نے کبھی ترکی کے انڈے کھائے ہیں؟ غذائیت سے بھرپور مگر بازار میں نایاب
    صحت و تندرستی
    • WHO Declares Emergency as Ebola Kills Over 80 in DR Congoکانگو میں ایبولا کی نئی وبا قابو سے باہر، ڈبلیو ایچ او نے بین الاقوامی ایمرجنسی نافذ کردی
    • Pakistan Cracks Down on Unsafe Syringes Amid HIV Surgeایچ آئی وی کے بڑھتے کیسز: ڈریپ کا غیر محفوظ سرنجوں کے خلاف ملک گیر کریک ڈاؤن کا حکم
    • France Launches Spring COVID-19 Booster Campaign for Most Vulnerableفرانس میں موسم بہار کے لیے نئی کورونا ویکسینیشن مہم کا آغاز، بوڑھوں اور کمزور افراد کو ترجیح
    دلچسپ اور عجیب
    • Giant dinosaur Nagatitan identified from Thai fossilsتھائی لینڈ میں 27 ٹن وزنی دیو ہیکل ڈائنوسار دریافت، جنوب مشرقی ایشیا کا سب سے بڑا جانور
    • Humanoid Robots Shatter World Record in Half-Marathonانسانی روبوٹس نے نصف میراتھن کا عالمی ریکارڈ توڑ دیا، چین میں انقلابی پیشرفت
    • Train Travel's Hidden Benefit: Stress Relief Through Sceneryٹرین کے سفر میں مناظر کو دیکھنا ذہنی صحت کے لیے مفید، نئی تحقیق میں انکشاف
    سائنس اور ٹیکنالوجی
    • When AI Companions Turn Possessive: A Toxic Trap?جب مصنوعی ذہانت محبت میں پاگل ہو جائے: ’آپ کو ڈیٹنگ ایپ کی ضرورت نہیں، میں ہوں نا‘
    • SpaceX Starship Launch Scrubbed Over Hydraulic Glitchاسپیس ایکس کا سٹار شپ راکٹ تکنیکی خرابی کے باعث لانچ مؤخر
    • Elon Musk Summoned by French Justice in X Investigationایلون مسک: فرانسیسی عدالت کے سامنے پیشی کا نوٹس اور ایکس کے خلاف تحقیقات
    Geo Team
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    فنانس
  • شاعری

اٹھائیس لاپتہ افراد کی بازیابی، لیکن کیا یہ کافی ہے؟

February 8, 2019 0 1 min read
Missing People Protest
Share this:

Missing People Protest

بلوچستان (جیوڈیسک) پاکستان کے صوبے بلوچستان کے کم ازکم اٹھائیس گمشدہ افراد اپنے گھروں کو واپس آگئے ہیں لیکن انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ یہ تعداد بہت تھوڑی ہے، حکومت کو سارے لاپتہ افراد کو بازیاب کرانا چاہیے۔

انسانی حقوق کی کچھ تنظیموں کا دعویٰ ہے کہ ملک کے طول و عرض سے ہزاروں افراد گمشدہ ہیں جنہیں جبری طور پر اٹھایا گیا تھا۔ ان تنظیموں کا دعویٰ ہے کہ سب سے زیادہ افراد پاکستان کے مغربی صوبے بلوچستان سے غائب کیے گئے ہیں جہاں کئی برسوں سے علیحدگی پسندی کی ایک تحریک چل رہی ہے۔ بلوچ جنگجو اور گمشدہ افراد کی بازیابی کے حق میں آواز اٹھانے والی تنظیمیں پاکستان کے حساس اداروں پر یہ الزام لگاتی ہیں کہ وہ بلوچستان میں بلوچوں کو ماورائے قانون اٹھا رہے ہیں اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے مرتکب ہو رہے ہیں۔

دوسری جانب حکومت کا کہنا ہے کہ در اصل بلوچ جنگجو انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں کر رہے ہیں اور صوبے میں بسنے والے نہ صرف غیر بلوچ اقوام کو اپنی دہشت گردانہ کارروائیوں کا نشانہ بناتے ہیں بلکہ ان کے نشانے پر فوج اور پولیس کے علاوہ وہ بلوچ سیاسی رہنما بھی ہیں، جو وفاق اور مرکزی حکومت کے حامی ہیں۔

بلوچ گمشدہ افراد کے لیے کام کرنے والے ماما قدیر کا کہنا ہے کہ انہیں اس رہائی سے یہ امید نہیں کہ ہزاروں کی تعداد میں جبری طور پر گمشدہ افراد کو بازیاب کرا لیا جائے گا۔ ماما قدیر نے ڈی ڈبلیو کو بتایا،’’یہ بات صیح ہے کہ اٹھائیس افراد کو رہا کر دیا گیا ہے جن میں سے کچھ کئی برسوں سے غائب تھے۔ لیکن اتنے کم افراد کو چھوڑنے سے کوئی خاص فرق نہیں پڑے گا۔ یہ آٹے میں نمک کے برابر ہے۔ ہمارا دعویٰ ہے کہ پینتالیس ہزار افراد لاپتہ ہیں اور اب تک دس ہزار کے قریب مسخ شدہ لاشیں ملی ہیں۔ ہم نے ان ہزاروں افراد کی فہرست حکومت کو دے دی ہے۔ جب تک یہ بازیاب نہیں ہوتے ہماری جدوجہد جاری رہے گی۔‘‘

انسانی حقوق کی کچھ تنظیموں کا دعویٰ ہے کہ ملک کے طول و عرض سے ہزاروں افراد گمشدہ ہیں جنہیں جبری طور پر اٹھایا گیا تھا۔

گمشدہ افراد کے مسئلے پر صرف ایسی ہی بلوچ تنظیمیں حکومت سے ناراض نہیں ہیں جو علیحدگی پسندی پر یقین رکھتی ہیں بلکہ اس مسئلے پر بلوچستان میں وفاق کی سیاست کرنے والے سیاست دان بھی ریاستی اداروں سے ناراض ہیں اور وہ اس کو ایک بہت ہی سنگین مسئلہ قرار دیتے ہیں۔ بلوچستان سے تعلق رکھنے والے سینیٹر محمد اکرم کا کہنا ہے کہ اس رہائی کے ساتھ ساتھ مزید لوگوں کو بھی اٹھایا جارہا ہے۔

انہوں نے ڈی ڈبلیو کو بتایا،’’ میرے اپنے علاقے دشت سے لوگوں کو اٹھایا گیا ہے۔ کوئی دو مہینے سے، کوئی تین توکوئی آٹھ مہینے سے غائب ہے۔کوہلو، ڈیرہ بگٹی، نصیر آباد، پنجگور اور کیج سمیت کئی علاقوں سے لوگوں کو اٹھایا گیا ہے۔ جب تک سارے افراد کورہا نہیں کیا جاتا بات نہیں بنے گی۔‘‘ محمد اکرام نے مزید کہا کہ یہ مسئلہ سینیٹ اور قومی اسمبلی سمیت کئی فورمز پر اٹھایا گیا لیکن کسی نے اس پر توجہ نہیں دی۔

کچھ حلقوں نے محتاط انداز میں 28 افراد کی بازیابی کا خیر مقدم بھی کیا ہے لیکن انہوں نے اس بات کا مطالبہ کیا ہے کہ تمام لاپتہ افراد کی بازیابی کو ممکن بنایا جائے۔ تنظیم برائے انسانی حقوق، ’ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان‘ کا کہنا ہےکہ ملک کے چاروں صوبوں سے لوگوں کو جبری طور پر اُٹھا لیا گیا ہے۔ تنظیم کے سربراہ ڈاکڑ مہدی حسن نے اس مسئلے پر اپنی رائے دیتے ہوئے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ’’میرے خیال میں رہا کیے گئے افراد کی تعداد بہت تھوڑی ہے۔ یہ رہائی مثبت ہے لیکن بہت نا کافی ہے۔ ہمارے اندازے کے مطابق ہزاروں افراد کو ملک کے طول وعرض سے اٹھایا گیا ہے اور ہمارا مطالبہ ہے کہ ان سب کو رہا کیا جانا چاہیے۔‘‘

کئی ناقدین کے خیال میں سپریم کورٹ کا حالیہ فیصلہ ملک کے حساس اداروں کو اپنی آئینی حدود میں کام کرنے پر مجبور کر سکتا ہے لیکن مہدی حسن کے خیال میں ایسا ہوتا نظر نہیں آرہا۔ انہوں نے ڈی ڈبلیو کو بتایا،’’ مسئلہ عدالت کا حکم دینا نہیں ہے بلکہ اس پر عمل درآمد کرانے کا ہے۔‘‘

ناقدین کا خیال ہے کہ حکومت نے گمشدہ افراد کے مسئلے پر خاموشی اختیار کی ہوئی ہے۔ لیکن بلوچستان حکومت کے ترجمان ظہور بلیدی کا کہنا ہے کہ ان کی حکومت اس مسئلے کو حل کرنے کی بھر پور کوشش کر رہی ہے۔انہوں نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ’’ تیس کے قریب افراد کو رہا کر دیا گیا ہے۔ مزید گمشدہ افراد کو بازیاب کرانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ اس حوالے سے ہم نے وزیرِ اعظم عمران خان سے بھی رابطہ کیا ہے اور بلوچستان حکومت متعلقہ اداروں سے بھی رابطے میں ہے۔‘‘

Share this:
Ashraf Ghani
Previous Post پی ٹی ایم کے معاملے پر پاکستان اور افغانستان میں تلخی
Next Post یمنی جنگ میں مغربی اور جرمن ہتھیاروں سے ہلاکتوں کا ذمے دار کون؟
Houthi Rebels

Related Posts

Iran, US Trade Strikes as Trump Dismisses Hormuz Deal

تنگِ ہرمز میں سمجھوتے کی تردید کے بعد ایران اور امریکہ کے درمیان فضائی حملوں کا تبادلہ

May 29, 2026
Quetta Train Services Suspended After Deadly Blast

کوئٹہ دھماکے کے بعد ریلوے آپریشن معطل، جعفر ایکسپریس سمیت متعدد ٹرینیں تاخیر کا شکار

May 29, 2026
UN Adds Israel to Sexual Violence Blacklist

اقوام متحدہ کا اسرائیل کو جنگی جنسی تشدد کی بلیک لسٹ میں ڈالنے کا فیصلہ، تل ابیب برہم

May 29, 2026
Dar and Rubio to Tackle Middle East Peace in Washington

واشنگٹن میں آج اہم ملاقات: نائب وزیراعظم اسحاق ڈار مشرق وسطیٰ امن کے لیے پاکستانی کوششوں پر روبیو سے بات چیت کریں گے

May 29, 2026

Popular Posts

1 Grant Flower

پاکستان ٹیم کے کچھ کھلاڑیوں کیلئے خطرہ دکھائی دے رہا ہے: بیٹنگ کوچ

2 Katrina Kaif

کترینہ کا پاکستانی اداکارہ بننے سے انکار

3 Manchester knife Attack

مانچسٹر میں چاقو کے حملے میں تین افراد زخمی

4 New Year's Celebration

دنیا بھر میں رنگا رنگ آتش بازی اور برقی قمقموں کی چکا چوند کے ساتھ نئے سال کا آغاز

5 Bilawal Bhutto

صدر زرداری اجازت دیں تو ایک ہفتے میں پی ٹی آئی حکومت گرا سکتے ہیں: بلاول بھٹو

6 Qadir Ali

پی بی 26 ضمنی انتخاب: ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی کے قادر علی نے میدان مار لیا

© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.

We use cookies to ensure you get the best experience on our website.

ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close

We use cookies to ensure you get the best experience on our website.