geourdu logo
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
    • Geo Team
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • فنانس
  • شاعری
Dark Mode
Skip to content
September 18, 2026
  • Geo Urdu France
  • Prayer Times
  • Finance
  • Currency Rate
  • Gold Rates
  • ENGLISH
  • –
  • FRENCH
geourdu logo
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم
    • Fatbikes Gain Popularity in French Cities Amid Safety Concernsفیٹ بائیکس کا بڑھتا رجحان: سہولت، تنازعہ اور ضابطے کی ضرورت
    • France Revises Under-15 Social Media Ban for EUفرانس نے 15 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی کا نیا مسودہ یورپی یونین کو پیش کر دیا
    • Screens and Parenting: The Hidden Classroom Crisisاسکرینیں اور والدین: بچوں کی تعلیمی کارکردگی پر پوشیدہ اثرات
    صحت و تندرستی
    • Fatbikes Gain Popularity in French Cities Amid Safety Concernsفیٹ بائیکس کا بڑھتا رجحان: سہولت، تنازعہ اور ضابطے کی ضرورت
    • Pediatrician Sounds Alarm Over Tiger Mosquito Surge in Val-de-Marneٹائیگر مچھروں کی افزائش اور چکن گونیا کے مقامی کیسز پر ویلی-ڈی-مارن میں تشویش
    • French Women Warned Over Desogestrel Pill Meningioma Riskفرانس میں 16 لاکھ خواتین کو برتھ کنٹرول گولی سے میننجیوما کے خطرے کی وارننگ
    دلچسپ اور عجیب
    • France Revises Under-15 Social Media Ban for EUفرانس نے 15 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی کا نیا مسودہ یورپی یونین کو پیش کر دیا
    • Paris Metro Roof Surfing Sparks Safety Outrageپیرس میں میٹرو کی چھت پر نوجوان کی خطرناک stunt، حکام کی سخت مذمت
    • Screens and Parenting: The Hidden Classroom Crisisاسکرینیں اور والدین: بچوں کی تعلیمی کارکردگی پر پوشیدہ اثرات
    سائنس اور ٹیکنالوجی
    • NASA Probe Spots Massive New Moon Craterچاند کی سطح پر نیا دیوہیکل گڑھا دریافت، سائنسدان حیران
    • Zuckerberg Rejects Calls to Slow AI Developmentزکربرگ کا مصنوعی ذہانت کی ترقی کو سست کرنے سے انکار، ٹرمپ کے مؤقف کے قریب
    • EU Proposes Social Media Ban for Under-13sیورپی یونین میں 13 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر مکمل پابندی کی تجویز
    Geo Team
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    فنانس
  • شاعری

اٹھائیس لاپتہ افراد کی بازیابی، لیکن کیا یہ کافی ہے؟

February 8, 2019 0 1 min read
Missing People Protest
Share this:

Missing People Protest

بلوچستان (جیوڈیسک) پاکستان کے صوبے بلوچستان کے کم ازکم اٹھائیس گمشدہ افراد اپنے گھروں کو واپس آگئے ہیں لیکن انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ یہ تعداد بہت تھوڑی ہے، حکومت کو سارے لاپتہ افراد کو بازیاب کرانا چاہیے۔

انسانی حقوق کی کچھ تنظیموں کا دعویٰ ہے کہ ملک کے طول و عرض سے ہزاروں افراد گمشدہ ہیں جنہیں جبری طور پر اٹھایا گیا تھا۔ ان تنظیموں کا دعویٰ ہے کہ سب سے زیادہ افراد پاکستان کے مغربی صوبے بلوچستان سے غائب کیے گئے ہیں جہاں کئی برسوں سے علیحدگی پسندی کی ایک تحریک چل رہی ہے۔ بلوچ جنگجو اور گمشدہ افراد کی بازیابی کے حق میں آواز اٹھانے والی تنظیمیں پاکستان کے حساس اداروں پر یہ الزام لگاتی ہیں کہ وہ بلوچستان میں بلوچوں کو ماورائے قانون اٹھا رہے ہیں اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے مرتکب ہو رہے ہیں۔

دوسری جانب حکومت کا کہنا ہے کہ در اصل بلوچ جنگجو انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں کر رہے ہیں اور صوبے میں بسنے والے نہ صرف غیر بلوچ اقوام کو اپنی دہشت گردانہ کارروائیوں کا نشانہ بناتے ہیں بلکہ ان کے نشانے پر فوج اور پولیس کے علاوہ وہ بلوچ سیاسی رہنما بھی ہیں، جو وفاق اور مرکزی حکومت کے حامی ہیں۔

بلوچ گمشدہ افراد کے لیے کام کرنے والے ماما قدیر کا کہنا ہے کہ انہیں اس رہائی سے یہ امید نہیں کہ ہزاروں کی تعداد میں جبری طور پر گمشدہ افراد کو بازیاب کرا لیا جائے گا۔ ماما قدیر نے ڈی ڈبلیو کو بتایا،’’یہ بات صیح ہے کہ اٹھائیس افراد کو رہا کر دیا گیا ہے جن میں سے کچھ کئی برسوں سے غائب تھے۔ لیکن اتنے کم افراد کو چھوڑنے سے کوئی خاص فرق نہیں پڑے گا۔ یہ آٹے میں نمک کے برابر ہے۔ ہمارا دعویٰ ہے کہ پینتالیس ہزار افراد لاپتہ ہیں اور اب تک دس ہزار کے قریب مسخ شدہ لاشیں ملی ہیں۔ ہم نے ان ہزاروں افراد کی فہرست حکومت کو دے دی ہے۔ جب تک یہ بازیاب نہیں ہوتے ہماری جدوجہد جاری رہے گی۔‘‘

انسانی حقوق کی کچھ تنظیموں کا دعویٰ ہے کہ ملک کے طول و عرض سے ہزاروں افراد گمشدہ ہیں جنہیں جبری طور پر اٹھایا گیا تھا۔

گمشدہ افراد کے مسئلے پر صرف ایسی ہی بلوچ تنظیمیں حکومت سے ناراض نہیں ہیں جو علیحدگی پسندی پر یقین رکھتی ہیں بلکہ اس مسئلے پر بلوچستان میں وفاق کی سیاست کرنے والے سیاست دان بھی ریاستی اداروں سے ناراض ہیں اور وہ اس کو ایک بہت ہی سنگین مسئلہ قرار دیتے ہیں۔ بلوچستان سے تعلق رکھنے والے سینیٹر محمد اکرم کا کہنا ہے کہ اس رہائی کے ساتھ ساتھ مزید لوگوں کو بھی اٹھایا جارہا ہے۔

انہوں نے ڈی ڈبلیو کو بتایا،’’ میرے اپنے علاقے دشت سے لوگوں کو اٹھایا گیا ہے۔ کوئی دو مہینے سے، کوئی تین توکوئی آٹھ مہینے سے غائب ہے۔کوہلو، ڈیرہ بگٹی، نصیر آباد، پنجگور اور کیج سمیت کئی علاقوں سے لوگوں کو اٹھایا گیا ہے۔ جب تک سارے افراد کورہا نہیں کیا جاتا بات نہیں بنے گی۔‘‘ محمد اکرام نے مزید کہا کہ یہ مسئلہ سینیٹ اور قومی اسمبلی سمیت کئی فورمز پر اٹھایا گیا لیکن کسی نے اس پر توجہ نہیں دی۔

کچھ حلقوں نے محتاط انداز میں 28 افراد کی بازیابی کا خیر مقدم بھی کیا ہے لیکن انہوں نے اس بات کا مطالبہ کیا ہے کہ تمام لاپتہ افراد کی بازیابی کو ممکن بنایا جائے۔ تنظیم برائے انسانی حقوق، ’ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان‘ کا کہنا ہےکہ ملک کے چاروں صوبوں سے لوگوں کو جبری طور پر اُٹھا لیا گیا ہے۔ تنظیم کے سربراہ ڈاکڑ مہدی حسن نے اس مسئلے پر اپنی رائے دیتے ہوئے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ’’میرے خیال میں رہا کیے گئے افراد کی تعداد بہت تھوڑی ہے۔ یہ رہائی مثبت ہے لیکن بہت نا کافی ہے۔ ہمارے اندازے کے مطابق ہزاروں افراد کو ملک کے طول وعرض سے اٹھایا گیا ہے اور ہمارا مطالبہ ہے کہ ان سب کو رہا کیا جانا چاہیے۔‘‘

کئی ناقدین کے خیال میں سپریم کورٹ کا حالیہ فیصلہ ملک کے حساس اداروں کو اپنی آئینی حدود میں کام کرنے پر مجبور کر سکتا ہے لیکن مہدی حسن کے خیال میں ایسا ہوتا نظر نہیں آرہا۔ انہوں نے ڈی ڈبلیو کو بتایا،’’ مسئلہ عدالت کا حکم دینا نہیں ہے بلکہ اس پر عمل درآمد کرانے کا ہے۔‘‘

ناقدین کا خیال ہے کہ حکومت نے گمشدہ افراد کے مسئلے پر خاموشی اختیار کی ہوئی ہے۔ لیکن بلوچستان حکومت کے ترجمان ظہور بلیدی کا کہنا ہے کہ ان کی حکومت اس مسئلے کو حل کرنے کی بھر پور کوشش کر رہی ہے۔انہوں نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ’’ تیس کے قریب افراد کو رہا کر دیا گیا ہے۔ مزید گمشدہ افراد کو بازیاب کرانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ اس حوالے سے ہم نے وزیرِ اعظم عمران خان سے بھی رابطہ کیا ہے اور بلوچستان حکومت متعلقہ اداروں سے بھی رابطے میں ہے۔‘‘

Share this:
Ashraf Ghani
Previous Post پی ٹی ایم کے معاملے پر پاکستان اور افغانستان میں تلخی
Next Post یمنی جنگ میں مغربی اور جرمن ہتھیاروں سے ہلاکتوں کا ذمے دار کون؟
Houthi Rebels

Related Posts

Boy, 7, Suspected of Killing Aunt in Val-de-Marne

فرانس میں سات سالہ بچے نے خالہ کو قتل کر دیا، ماں کو بچانے کا دعویٰ

September 18, 2026
US Approves $24.3B F-35 Sale to Saudi Arabia

امریکہ کا سعودی عرب کو 24.3 بلین ڈالر کے ایف-35 طیارے فروخت کرنے کا فیصلہ

September 18, 2026
Australia to Detain Tourists Who Overstay Visas

آسٹریلیا کا سیاحوں کے خلاف سخت اقدام: ویزا مدت بڑھانے والوں کو حراست میں رکھنے کا اعلان

September 18, 2026
Streisand Blasts Trump's Kennedy Center "Ego"

باربرا اسٹرائسینڈ کا ٹرمپ پر کڑا حملہ: ’کینیڈی سینٹر کی تباہی دردناک ہے‘

September 18, 2026

Popular Posts

1 Grant Flower

پاکستان ٹیم کے کچھ کھلاڑیوں کیلئے خطرہ دکھائی دے رہا ہے: بیٹنگ کوچ

2 Katrina Kaif

کترینہ کا پاکستانی اداکارہ بننے سے انکار

3 Manchester knife Attack

مانچسٹر میں چاقو کے حملے میں تین افراد زخمی

4 New Year's Celebration

دنیا بھر میں رنگا رنگ آتش بازی اور برقی قمقموں کی چکا چوند کے ساتھ نئے سال کا آغاز

5 Bilawal Bhutto

صدر زرداری اجازت دیں تو ایک ہفتے میں پی ٹی آئی حکومت گرا سکتے ہیں: بلاول بھٹو

6 Qadir Ali

پی بی 26 ضمنی انتخاب: ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی کے قادر علی نے میدان مار لیا

© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.

We use cookies to ensure you get the best experience on our website.

ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close

We use cookies to ensure you get the best experience on our website.