پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کے چیئرمین حفیظ الرحمان نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی کو بتایا کہ ایلون مسک کی کمپنی اسٹار لنک کو پاکستان میں لانچ کرنے کے لیے وزارت داخلہ کی جانب سے ابھی تک سکیورٹی کلیئرنس موصول نہیں ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی اے نے اسٹار لنک کو اپنے تحفظات سے آگاہ کیا ہے، جس پر کمپنی نے حکومت کی پالیسی سے اتفاق کیا ہے۔
سینیٹر پلوشہ خان کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں پی ٹی اے چیئرمین نے بتایا کہ پاکستان میں قومی اسپیس پالیسی 2023 میں تشکیل دی گئی تھی، جس پر 2024 میں رولز بنائے گئے۔ اس کے بعد پاکستان اسپیس ریگولیٹری بورڈ قائم کیا گیا، جو نیشنل کمانڈ اتھارٹی کے ماتحت کام کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے سپارکو کو کمرشل تحفظ دینے کے لیے یہ ریگولیٹری باڈی تشکیل دی ہے۔
حفیظ الرحمان نے بتایا کہ کوئی بھی سیٹلائٹ سروس پاکستان میں فراہم کرنا چاہے تو اسے پہلے ای ای سی پی کے پاس رجسٹر ہونا ہوگا، پھر ریگولیٹری بورڈ کے پاس رجسٹریشن کرانی ہوگی، اور آخر میں پی ٹی اے سے لائسنس حاصل کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اسٹار لنک نے فروری 2022 میں لائسنس کے لیے درخواست دی تھی، جو وزارت داخلہ کے پاس سکیورٹی کلیئرنس کے لیے زیر التوا ہے۔
سینیٹر انوشہ رحمان نے استفسار کیا کہ نگراں حکومت کے دور میں یہ پالیسی کیسے بنی؟ چیئرمین پی ٹی اے نے جواب دیا کہ اسٹار لنک کی کلیئرنس وزارت داخلہ سے ابھی تک موصول نہیں ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسٹار لنک دور دراز علاقوں میں بزنس کو سپورٹ کرے گا، اور جب یہ نئے ریگولیٹری بورڈ کے ساتھ رجسٹر ہو جائے گی تو پی ٹی اے لائسنس جاری کر دے گا۔
سینیٹر ڈاکٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ ایلون مسک نے پاکستان کے خلاف سوشل میڈیا پر مہم چلائی تھی، جس میں پاکستانیوں پر الزامات لگائے گئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ایلون مسک کے رویے کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلہ کیا جانا چاہیے۔ سینیٹر پلوشہ خان نے کہا کہ ایلون مسک پاکستان مخالف ہے، اور اس کی وجہ سے ہماری عالمی سطح پر بدنامی ہوئی ہے۔
انوشہ رحمان نے کہا کہ ہم انٹرنیٹ کی بندش کا بھی سامنا کر رہے ہیں، اور اب ایسی سیٹلائٹ لانے کی کوشش کی جا رہی ہے جو ایلون مسک جیسے جارحانہ رویے کے حامل شخص کے ماتحت ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ غیراخلاقی مواد یا دیگر مسائل کو ہینڈل کرنے کا کیا لائحہ عمل ہوگا؟ چیئرمین پی ٹی اے نے جواب دیا کہ ریگولیٹری باڈی ان تمام معاملات کو دیکھ کر ہی لائسنس جاری کرے گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ اسٹار لنک کا نظام براہ راست سیٹلائٹ سے نہیں چلے گا، بلکہ یہ گراؤنڈ گیٹ وے کے ذریعے کام کرے گا۔ پی ٹی اے نے اپنے تحفظات اسٹار لنک کو بتا دیے ہیں، اور کمپنی نے حکومتی پالیسی سے اتفاق کیا ہے۔ کمیٹی نے آئندہ اجلاس میں سپارکو اور ریگولیٹری اتھارٹی کو طلب کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
