**بحریہ ٹاؤن کے مالک ملک ریاض پر نیب کے الزامات: کیا دبئی میں سرمایہ کاری منی لانڈرنگ ہے؟**
بحریہ ٹاؤن کے مالک ملک ریاض، جو پاکستان کی بااثر کاروباری شخصیات میں شمار ہوتے ہیں، ان پر قومی احتساب بیورو (نیب) نے سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے ان کے دبئی میں قائم ہاؤسنگ پروجیکٹ کو ’منی لانڈرنگ‘ قرار دیا ہے۔ نیب کا کہنا ہے کہ ملک ریاض اور ان کے ساتھیوں نے بحریہ ٹاؤن کے نام پر کراچی، راولپنڈی اور دیگر شہروں میں سرکاری و نجی اراضی پر ناجائز قبضہ کر کے لوگوں سے بھاری رقم وصول کی ہے۔
گذشتہ روز نیب کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ملک ریاض 190 ملین پاؤنڈ کے کیس میں عدالت اور نیب دونوں کے لیے مطلوب ہیں اور انہیں مفرور قرار دیا گیا ہے۔ یہ وہی کیس ہے جس میں سابق وزیراعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو بالترتیب 14 اور 7 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ نیب کا دعویٰ ہے کہ ملک ریاض نے عمران خان کی حکومت کے ساتھ ایک خفیہ معاہدہ کر کے القادر یونیورسٹی کی زمین عطیہ کی تھی، جو درحقیقت ایک مبینہ فراڈ کا حصہ تھا۔
ملک ریاض اس وقت دبئی میں مقیم ہیں اور نیب کا کہنا ہے کہ حکومتِ پاکستان قانونی چینلز کے ذریعے ان کی حوالگی کے لیے متحدہ عرب امارات سے رابطہ کر رہی ہے۔ تاہم، ماہرین کے مطابق حوالگی کا عمل انتہائی پیچیدہ اور طویل ہوتا ہے، جس میں دونوں ممالک کے سفارتخانوں اور پولیس فورسز کی شمولیت ضروری ہوتی ہے۔
دوسری جانب، بحریہ ٹاؤن نے حال ہی میں دبئی میں ایک بڑے رہائشی اور تجارتی منصوبے کا افتتاح کیا ہے۔ کمپنی کی ویب سائٹ کے مطابق، دبئی ساؤتھ میں قائم یہ پروجیکٹ المکتوم ایئرپورٹ کے قریب واقع ہے، جہاں بنگلوں کی قیمت ڈھائی کروڑ سے 50 کروڑ روپے تک ہے۔ ویب سائٹ پر یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ پاکستان، انڈیا، امریکہ اور برطانیہ سمیت دیگر ممالک کے شہری بھی اس منصوبے میں سرمایہ کاری کر سکتے ہیں۔
نیب کا مؤقف ہے کہ ملک ریاض پر پاکستان میں فراڈ کے الزامات ہیں، اس لیے وہ دبئی میں بھی فراڈ کر سکتے ہیں۔ ادارے کا کہنا ہے کہ ایک مفرور ملزم کے پروجیکٹ کے لیے پاکستان سے پیسہ باہر بھیجا جا رہا ہے، جو منی لانڈرنگ کے زمرے میں آتا ہے۔ تاہم، قانونی ماہرین کے مطابق اگر کوئی پاکستانی شہری قانونی ذرائع سے ٹیکس ادا کرنے کے بعد غیر ملکی منصوبوں میں سرمایہ کاری کرتا ہے تو اسے منی لانڈرنگ نہیں کہا جا سکتا۔
ملک ریاض نے سوشل میڈیا پر ایک بیان جاری کرتے ہوئے نیب کے الزامات کو ’بلیک میلنگ‘ قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ کسی بھی صورت میں گواہی دینے سے انکار کریں گے اور ان کے پاس پچھلے 30 سے 35 سال کے راز محفوظ ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر ان پر دباؤ بڑھا تو وہ ان رازوں کو منظر عام پر لے آئیں گے۔
اس تنازعے کے پس منظر میں سوال یہ ہے کہ کیا نیب قانونی طور پر پاکستانی شہریوں کو دبئی میں بحریہ ٹاؤن کے منصوبے میں سرمایہ کاری سے روک سکتا ہے؟ اور کیا ملک ریاض کو متحدہ عرب امارات سے پاکستان لانا ممکن ہے؟ ماہرین کے مطابق، یہ دونوں سوالوں کے جواب پیچیدہ ہیں اور ان کا تعلق بین الاقوامی قوانین اور دونوں ممالک کے درمیان تعلقات سے ہے۔
فی الحال، ملک ریاض کے خلاف نیب کی کارروائی جاری ہے، جبکہ بحریہ ٹاؤن کے دبئی منصوبے میں سرمایہ کاری کرنے والوں کے لیے بھی قانونی پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں۔ اس معاملے کا حل عدالتی فیصلوں اور حکومتی اقدامات پر منحصر ہوگا۔
