حکومت کی جانب سے فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) کے خلاف انسانی اسمگلنگ میں مبینہ تعاون پر کارروائی کے بعد، ایجنسی نے قانونی طور پر سفر کرنے والے مسافروں کے لیے نئی مشکلات پیدا کر دی ہیں۔ تصدیق شدہ دستاویزات رکھنے والے مسافروں کو بھی ہوائی اڈوں پر آف لوڈ کیا جا رہا ہے، جس سے ان کے سفر میں رکاوٹیں پیدا ہو رہی ہیں۔
تفصیلات کے مطابق، ایف آئی اے نے حالیہ دنوں میں ان مسافروں کو بھی روکنا شروع کر دیا ہے جو حکومت سے تصدیق شدہ قانونی دستاویزات کے ساتھ بیرون ملک جانے کی کوشش کر رہے تھے۔ افرادی قوت کی برآمدی صنعت سے وابستہ ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ اقدام حکومت کی ایف آئی اے کے خلاف کارروائی اور گزشتہ ماہ پیش آنے والے کشتی حادثے کے بعد اٹھایا گیا ہے، جس میں 40 سے زائد پاکستانی ہلاک ہو گئے تھے۔ یہ افراد غیر قانونی طریقے سے یورپ جانے کی کوشش کر رہے تھے۔
حکومتی تحقیقات کے مطابق، ایف آئی اے کے 35 اہلکاروں پر ان پاکستانیوں کو غیر قانونی طریقے سے بیرون ملک بھیجنے میں ملوث ہونے کا الزام تھا۔ ان اہلکاروں کو برطرف کر دیا گیا، اور ایجنسی کو ہدایت کی گئی کہ کوئی بھی شخص غیر قانونی طریقے سے پاکستان سے باہر نہ جا سکے۔ تاہم، ایف آئی اے نے اس حکم کا غلط استعمال کرتے ہوئے قانونی اور تصدیق شدہ دستاویزات رکھنے والے مسافروں کو بھی آف لوڈ کرنا شروع کر دیا۔
بیورو آف امیگریشن کے ڈائریکٹر جنرل محمد طیب نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ انہیں ایسی رپورٹس موصول ہوئی ہیں جن میں ایف آئی اے کی جانب سے قانونی مسافروں کو آف لوڈ کرنے کی اطلاعات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے ایف آئی اے سے اس معاملے پر وضاحت طلب کی ہے۔
قانونی مسافر وہ ہیں جو ملازمت کے ویزے پر بیرون ملک جاتے ہیں۔ انہیں کئی مراحل سے گزرنا پڑتا ہے، جن میں انٹرویوز، انتخاب، سفارت خانے سے ویزہ حاصل کرنا، اور پھر اسے بیورو آف امیگریشن کے ماتحت پروٹیکٹر آفس سے تصدیق کروانا شامل ہے۔ محمد طیب کے مطابق، پروٹیکٹر آفس کی مکمل جانچ کے بعد پاسپورٹ پر اسٹیکر لگایا جاتا ہے، اور ایسی صورت میں کسی کو آف لوڈ کرنے کی کوئی وجہ نہیں ہونی چاہیے۔
پاکستان اوورسیز ایمپلائمنٹ پروموٹرز ایسوسی ایشن کے سابق چیئرمین سرفراز ظہور چیمہ نے کہا کہ ریکروٹمنٹ ایجنسیاں تمام ضروری دستاویزات فراہم کرتی ہیں، اور سفارت خانے سے منظوری کے بعد پروٹیکٹر آفس کے ذریعے دوبارہ تصدیق کی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان تمام مراحل کے بعد ایف آئی اے کے پاس کسی کو آف لوڈ کرنے کا کوئی جواز نہیں ہے۔
مین پاور ایجنسیز سے وابستہ افراد کا کہنا ہے کہ ایف آئی اے کے اقدامات نہ صرف قانونی طور پر چیلنج کیے جانے کے قابل ہیں بلکہ یہ غریب لوگوں کے لیے مالی اور ساکھ کے نقصانات کا باعث بھی بن رہے ہیں۔ محمد زبیر خان، جو ایک مین پاور ایجنسی چلا رہے ہیں، نے بتایا کہ ان کی ایجنسی کے ذریعے ویزہ حاصل کرنے والے چار افراد کو کراچی ایئرپورٹ سے آف لوڈ کر دیا گیا، جبکہ دیگر چار کو جانے کی اجازت دے دی گئی، حالانکہ ان سب کے پاس ایک جیسے دستاویزات تھے۔
کئی رجسٹرڈ ایجنسیز کے مالکان نے دعویٰ کیا کہ ایف آئی اے مسافروں کو آف لوڈ کرنے کی کوئی وجہ فراہم نہیں کرتی، بلکہ صرف شک کی بنیاد پر انہیں روکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدام غریب مسافروں کے لیے مالی نقصان کا باعث بن رہا ہے، کیونکہ ان کے ٹکٹ ضائع ہو جاتے ہیں۔
ڈی ڈبلیو نے ایف آئی اے کے ترجمان سے اس معاملے پر وضاحت طلب کی، لیکن اب تک کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔ ایف آئی اے کے اقدامات پر اٹھنے والے سوالات کے جوابات ابھی تک واضح نہیں ہیں، جبکہ قانونی مسافروں کی مشکلات میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔
