جرمنی کے وفاقی دفتر برائے مہاجرت اور ترک وطن (بی اے ایم ایف) کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق، 2024 میں سیاسی پناہ کے لیے درخواست دینے والے افراد کی تعداد میں گزشتہ سالوں کے مقابلے میں واضح کمی دیکھی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق، 2024 میں کل 229,751 افراد نے جرمنی میں سیاسی پناہ کے لیے درخواستیں جمع کرائیں، جو کہ 2023 کے مقابلے میں تقریباً ایک لاکھ کم ہے۔
بی اے ایم ایف کے مطابق، پناہ کے متلاشی افراد کی اکثریت شام، افغانستان اور ترکی جیسے ممالک سے تعلق رکھتی ہے۔ تاہم، یورپی یونین کے دیگر ممالک کے مقابلے میں جرمنی میں پناہ کی درخواستوں کی تعداد اب بھی کہیں زیادہ ہے۔ اسپین، فرانس اور اٹلی جیسے ممالک کے مقابلے میں جرمنی کو سیاسی پناہ کے حوالے سے نمایاں طور پر زیادہ درخواستیں موصول ہوتی ہیں۔
جرمن وفاقی وزیر داخلہ نینسی فیزر نے اس کمی کو ایک اہم کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’’بے ضابطہ تارکین وطن کی نقل مکانی کو کم کرنے میں ہم کامیاب رہے ہیں۔‘‘ ان کے مطابق، سرحدوں پر پولیس کی جانب سے سخت چیکنگ اور کنٹرول کے اقدامات نے اس کمی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ فیزر نے مزید کہا کہ ’’ہم اسمگلنگ کے راستوں کو محدود کر رہے ہیں، جس سے غیر قانونی نقل مکانی پر قابو پانے میں مدد ملی ہے۔‘‘
گزشتہ سال جرمنی نے اپنی سرحدوں پر عارضی بنیادوں پر سخت چیکنگ کا آغاز کیا تھا، حالانکہ اس کے تمام پڑوسی ممالک ویزا فری شینگن ایریا کے رکن ہیں۔ یہ اقدامات مارچ میں ختم ہونے والے ہیں، لیکن وزارت داخلہ کی جانب سے اشارہ دیا گیا ہے کہ انہیں مزید عرصے تک جاری رکھا جا سکتا ہے۔
یہ بات قابل ذکر ہے کہ جرمنی میں 23 فروری 2025 کو پارلیمانی انتخابات ہونے والے ہیں، اور توقع کی جا رہی ہے کہ ہجرت اور سیاسی پناہ سے متعلق پالیسیاں انتخابی مہم کے دوران اہم موضوعات میں سے ایک ہوں گی۔ حکومت کی جانب سے سرحدی کنٹرول اور پناہ کی درخواستوں میں کمی کو ایک مثبت پیش رفت کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے، جبکہ مخالفین اسے انتخابی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
