اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین (یو این ایچ سی آر) کے سربراہ فیلیپو گرانڈی نے کہا ہے کہ دسمبر کے اوائل میں بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے کے بعد سے تقریباً دو لاکھ شامی مہاجرین اپنے وطن واپس جا چکے ہیں۔ گرانڈی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اعداد و شمار شیئر کرتے ہوئے بتایا کہ آٹھ دسمبر سے 16 جنوری کے درمیان تقریباً 195,200 شامی مہاجرین شام لوٹ آئے ہیں۔
گرانڈی نے مزید کہا کہ وہ جلد ہی شام اور اس کے پڑوسی ممالک کا دورہ کریں گے، کیونکہ یو این ایچ سی آر واپس آنے والے مہاجرین کے لیے اپنی امدادی سرگرمیوں کو بڑھا رہا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ مہاجرین کی واپسی کے لیے سازگار ماحول بنانے اور ان کی دوبارہ آبادکاری میں مدد فراہم کرنا اقوام متحدہ کی اولین ترجیح ہے۔
شام میں حالات کے بہتر ہونے کے بعد لاکھوں شامی مہاجرین، جو پچھلے کئی سالوں سے لبنان، ترکی اور دیگر ممالک میں پناہ گزین تھے، اب اپنے وطن واپس لوٹ رہے ہیں۔ خاص طور پر لبنان میں اسرائیلی حملوں اور عسکریت پسند گروپ حزب اللہ کے ساتھ جاری تنازعات کے باعث بڑی تعداد میں شامی مہاجرین نے اپنے گھروں کو لوٹنے کا فیصلہ کیا ہے۔
ترکی، جو شام کے ساتھ تقریباً 900 کلومیٹر طویل سرحد کا حامل ہے، میں 2011 کے بعد سے تقریباً 30 لاکھ شامی مہاجرین پناہ لیے ہوئے ہیں۔ ترک حکام نے مقامی آبادی میں بڑھتے ہوئے شام مخالف جذبات کو کم کرنے کے لیے مہاجرین کی واپسی کی حوصلہ افزائی کی ہے۔ ترک حکومت نے ہر پناہ گزین خاندان کے ایک فرد کو یکم جولائی 2025 تک شام کے تین چکر لگانے کی اجازت دی ہے، تاکہ وہ اپنی دوبارہ آبادکاری کی تیاری کر سکیں۔
اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق، آئندہ برس تک مزید ڈھائی لاکھ شامی مہاجرین کے وطن واپس لوٹنے کی توقع ہے۔ اس سلسلے میں بین الاقوامی برادری نے شامی مہاجرین کے لیے پانچ ارب یورو امداد کا وعدہ بھی کیا ہے، جو ان کی واپسی اور دوبارہ تعمیر نو کے عمل کو آسان بنانے میں مددگار ثابت ہوگا۔
شام میں سیاسی تبدیلیوں اور امن کے امکانات نے مہاجرین کو اپنے گھروں کو لوٹنے پر آمادہ کیا ہے، لیکن اس عمل کو مکمل طور پر کامیاب بنانے کے لیے بین الاقوامی تعاون اور مستحکم حالات کی ضرورت ہے۔
