جرمنی کے شہر اشافنبرگ میں چاقو کے ایک حملے میں دو افراد ہلاک ہو گئے ہیں، جن میں ایک 2 سالہ بچہ بھی شامل ہے۔ یہ واقعہ بدھ کو شہر کے مرکز میں واقع شونٹال پارک میں پیش آیا۔ پولیس کے مطابق، حملہ آور کو فوری طور پر گرفتار کر لیا گیا ہے۔
پولیس کے مطابق، حملے میں 41 سالہ ایک شخص اور 2 سالہ بچہ ہلاک ہوئے ہیں۔ حملہ آور 28 سالہ ایک افغان شہری ہے، جسے ذہنی بیماریوں کے مسائل کا سامنا ہے۔ اس کے علاوہ دو دیگر افراد شدید زخمی ہوئے ہیں، جنہیں ہسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔
مقامی میڈیا کے مطابق، گزشتہ کچھ مہینوں سے شونٹال پارک میں متعدد واقعات پیش آنے کے بعد پولیس کی جانب سے اس پارک پر خصوصی توجہ دی جا رہی تھی۔ ان واقعات میں منشیات سے متعلق تشدد اور چوری کے معاملات شامل تھے۔ اسی وجہ سے حملہ آور کو فوری طور پر گرفتار کر لیا گیا۔
باویریا کے وزیر داخلہ جواخم ہرمن نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ ملزم پہلے بھی کم از کم تین بار تشدد کے واقعات میں ملوث پایا گیا تھا اور ہر بار اسے نفسیاتی علاج کے لیے ہسپتال میں داخل کیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ملزم کے گھر کی تلاشی کے دوران اس کے علاج کے لیے استعمال ہونے والی سو سے زائد ادویات برآمد ہوئی ہیں۔
ملزم نے 2022 کے آخر میں جرمنی میں داخلہ لیا تھا اور 2023 کے آغاز میں پناہ کی درخواست دی تھی۔ تاہم، 4 دسمبر کو ملزم نے خود ہی جرمنی چھوڑنے کا اعلان کیا تھا اور کہا تھا کہ وہ افغانستان کے قونصل خانے سے ضروری کارروائی کرے گا۔ 11 دسمبر کو جرمنی کے وفاقی ادارہ برائے مہاجرت اور پناہ گزینوں (BAMF) نے اسے ملک چھوڑنے کی ہدایت کی تھی۔
جرمن چانسلر اولاف شولز نے اس واقعے پر غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ملزم ابھی تک جرمنی میں کیوں موجود تھا۔ انہوں نے کہا کہ وہ ان حملوں سے تنگ آ چکے ہیں جو غیر ملکیوں کی جانب سے کیے جاتے ہیں، جو یہاں تحفظ کی تلاش میں آئے تھے۔
باویریا کے وزیر اعلیٰ مارکس سیڈر نے بھی اس واقعے کو “باویریا کے لیے ایک خوفناک دن” قرار دیا اور کہا کہ اس واقعے کے تمام پہلوؤں کی مکمل طور پر تحقیقات کی جانی چاہیے۔
گزشتہ کچھ مہینوں میں جرمنی میں چاقو کے متعدد حملے ہو چکے ہیں، جس کی وجہ سے ملک میں سیکیورٹی کے مسائل پر شدید بحث چل رہی ہے۔ 23 فروری کو ہونے والے عام انتخابات کے دوران بھی سیکیورٹی کے معاملات اہم موضوعات میں شامل ہیں۔
یہ واقعہ اس وقت پیش آیا ہے جب گزشتہ سال اگست میں سولنگن میں ایک حملے میں تین افراد ہلاک ہوئے تھے، جس کا ملزم شام کا ایک شہری تھا، جس پر داعش سے تعلقات کا شبہ تھا۔ اسی طرح جون میں مانہائم میں ایک پولیس افسر کی ہلاکت کا واقعہ پیش آیا تھا، جس میں ملزم ایک افغان شہری تھا۔
ان واقعات کے بعد جرمن حکومت نے عوامی اجتماعات اور طویل فاصلے کے سفر کے دوران سفید اسلحہ لے جانے پر پابندی عائد کر دی تھی۔
