سابق یو ایف سی فائٹر خبیب نورماگومیدوف کے ساتھ ایک طیارے پر پیش آنے والے واقعے نے سوشل میڈیا پر بحث چھیڑ دی ہے۔ 36 سالہ روسی شہری خبیب امریکہ میں فرنٹیئر ایئرلائن کی لاس ویگاس سے لاس اینجلس جانے والی پرواز میں سوار تھے جب انہیں مبینہ طور پر طیارے سے اُتار دیا گیا۔ بی بی سی کی طرف سے اتوار کو وائرل ہونے والی اس ایک منٹ کی ویڈیو کی تصدیق نہیں کی جا سکی اور نہ ہی یہ معلوم ہو سکا ہے کہ اس کے پس منظر میں کیا ہوا تھا۔
فرنٹیئر ایئرلائنز کا کہنا ہے کہ وہ اس واقعے سے باخبر ہیں اور اس پر تحقیقات کر رہے ہیں۔ کمپنی نے بی بی سی سپورٹ کو بتایا کہ ’ہم نے صارفین کے پیسے واپس کر دیے ہیں اور انہیں براہ راست معاملے سے آگاہ کریں گے۔‘
ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ خبیب کو کہا جاتا ہے کہ وہ یا تو سیٹ بدل لیں یا جہاز سے اتر جائیں اور دوسری فلائٹ بک کر لیں۔ ایئرلائن کی انتظامیہ کی ایک اہلکار انہیں بتاتی ہیں کہ انہیں ’ایگزٹ رو میں بیٹھنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔‘ جب خبیب پوچھتے ہیں کہ کسے اعتراض ہے تو انہیں جواب ملتا ہے کہ ’میرے فلائٹ اٹینڈنٹ۔‘ اس پر وہ کہتے ہیں کہ یہ مناسب نہیں تو حکام کہتے ہیں کہ ’یہ مناسب ہے۔‘
خبیب کو کہا جاتا ہے کہ اگر انہوں نے بات نہ مانی تو سپروائزر کو بلا کر انہیں طیارے سے باہر لے جایا جائے گا۔ آخر میں خبیب جواب دیتے ہیں کہ وہ ’یہیں بیٹھنا پسند کریں گے‘ اور اس کے بعد وہ سکون سے جہاز سے نکل جاتے ہیں۔
عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ یہ مسئلہ اس وقت شروع ہوا جب فلائٹ اٹینڈنٹ نے خبیب سے پوچھا کہ کیا وہ ہنگامی صورتحال میں مسافروں کی مدد کر سکتے ہیں۔ ان کے مطابق 36 سالہ خبیب سوال کو ’پوری طرح سمجھ نہ پائے اور زبان نہ سمجھنے سے ہونے والی غلط فہمی ایک بحث کا باعث بنی۔‘
خبیب نورماگومیدوف نے اپنی ٹویٹ میں لکھا کہ ’سب سے پہلے، مجھے یہ واضح کرنے کی ضرورت ہے کہ یہ الاسکا ایئر نہیں فرنٹیئر ایئرلائنز تھی۔‘ انہوں نے کہا کہ ’وہ خاتون جو میرے پاس آئیں شروع سے ہی بہت بدتمیز تھیں، حالانکہ میں بہت اچھی انگریزی بولتا ہوں اور سب کچھ سمجھ سکتا ہوں اور مدد کرنے کے لیے راضی ہو جاتا ہوں۔ پھر بھی وہ مجھے اپنی سیٹ سے ہٹانے پر اصرار کرتی ہیں۔ اس کی بنیاد کیا تھی، نسلی، قومی یا کوئی اور مجھے یقین نہیں ہے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’دو منٹ کی بات چیت کے بعد انہوں نے سکیورٹی کو کال کی اور مجھے طیارے سے اتار دیا گیا، ڈیڑھ گھنٹے کے بعد میں دوسری ایئر لائن میں سوار ہوا اور اپنی منزل کی طرف روانہ ہوگیا۔ میں نے پرسکون رہنے کی پوری کوشش کی جیسا کہ آپ ویڈیو میں دیکھ سکتے ہیں۔‘
کونسل آن امریکن اسلامک ریلیشنز (کیئر) نے، جو امریکہ کی سب سے بڑی مسلم شہری حقوق اور وکالت کی تنظیم ہے، فرنٹیئر ایئر لائنز سے مطالبہ کیا کہ وہ ایتھلیٹ خبیب نورماگومیدوف کو لاس ویگاس سے لاس اینجلس جانے والی پرواز سے ہٹائے جانے کی ’تیزی اور شفاف طریقے سے‘ تحقیقات کرے۔ ایک بیان میں کیئر کے نیشنل ایگزیکٹو ڈائریکٹر نہاد عواد نے کہا: ’ہم فرنٹیئر ایئرلائنز سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اپنے عملے کے عمل کی فوری اور شفاف تحقیقات کرے تاکہ اس بات کا تعین کیا جا سکے کہ اس فلائٹ میں کیا ہوا اور ایتھلیٹ اور مسلم ایڈووکیٹ خبیب نورماگومیدوف کے ساتھ ایسا سلوک کیوں کیا گیا۔‘
بیان میں کہا گیا کہ ’یہ دیکھتے ہوئے کہ ایئر لائنز پر نسلی اور مذہبی پروفائلنگ کے واقعات کتنی کثرت سے پیش آتے ہیں، خاص طور پر ایسے مسافروں کے خلاف جو نمایاں طور پر مسلمان ہیں، فرنٹیئر ایئر لائنز کو بھی اپنی تحقیقات کے نتائج کو عوامی طور پر جاری کرنا چاہیے اور اپنے عملے کی جانب سے کسی غیرمناسب رویے یا غلطیوں کو دور کرنے کے لیے مناسب کارروائی کرنی چاہیے۔‘
سوشل میڈیا پر ایک صارف شیخ خالد پاشا نے اپنی ایک پوسٹ میں لکھا کہ خبیب ایک پرسکون اور شائستہ شخص ہیں۔ ’وہ بین الاقوامی یو ایف سی چیمپیئن ہیں اور بہت اچھی انگریزی بول سکتے ہیں۔‘ ایک اور صارف نے لکھا کہ خبیب حقیقی طور پر اس پورے طیارے میں ہنگامی صورتحال میں مدد کرنے کے لیے سب سے زیادہ فٹ اور اہل شخص تھے، اور آپ نے انہیں نکال دیا۔ بہت اچھا۔‘
دریں اثنا فرنٹیئر ایئرلائن نے کہا ہے کہ اسے واقعے کا علم ہے اور تحقیقات جاری ہے۔
