غزہ کے ملبے میں دفن ہزاروں لاپتہ افراد کی تلاش کا سفر ہر روز ایک نئی المناک داستان رقم کر رہا ہے۔ یہاں ہر طرف بکھری ہوئی اشیا، کپڑوں کے ٹکڑے، جوتے، اور بچوں کے سکول بیگز ان لاپتہ افراد کی نشانیاں ہیں جو شاید کبھی واپس نہیں آئیں گے۔ رفح میں ایمرجنسی اینڈ ایمبولینس سروسز کے ڈائریکٹر ہشام الحمص کے مطابق، اسرائیلی فوج کے انخلا کے بعد سے اب تک تقریباً 150 فون کالز موصول ہوئی ہیں، جن میں لوگوں نے بتایا ہے کہ ان کے رشتہ داروں کی لاشیں گھروں کے ملبے تلے دبی ہوئی ہیں۔
فلسطینی حکام صحت کے اندازے کے مطابق، غزہ میں اب بھی 10 ہزار سے زائد افراد لاپتہ ہیں۔ ایمرجنسی ٹیمیں ملبے میں سے کپڑوں، جوتوں، یا دیگر اشیا کو دیکھ کر لاشوں کی موجودگی کا اندازہ لگاتی ہیں۔ جب یہ نشانیاں نظر نہیں آتیں، تو رشتہ داروں سے معلومات حاصل کی جاتی ہیں یا پھر ملبے کے قریب خون اور انسانی باقیات کی بو سے لاشوں کا پتہ چلایا جاتا ہے۔
ہشام الحمص کی ٹیمیں انتہائی احتیاط سے ملبے کو ہٹا رہی ہیں، کیونکہ انہیں معلوم ہے کہ یہ مٹی اور پتھروں کے ڈھیر انسانی زندگی کے پرخچے چھپائے ہوئے ہیں۔ اکثر اوقات انہیں ملبے کے نیچے سے صرف ہڈیوں کے ڈھیر ملتے ہیں۔ اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں اکثر لاشیں متعدد ٹکڑوں میں بٹ جاتی ہیں۔ ان ہڈیوں اور کپڑوں کے ٹکڑوں کو کفن میں لپیٹ کر ’ناقابل شناخت‘ کا لیبل لگا دیا جاتا ہے۔
رفح کے رہائشی اُسامہ صالح جنگ بندی کے بعد جب اپنے گھر لوٹے، تو انہیں اندر ایک ڈھانچہ ملا، جس کی کھوپڑی ٹوٹی ہوئی تھی۔ اُسامہ کے خیال میں یہ لاش وہاں تقریباً چار سے پانچ مہینوں سے پڑی ہوئی تھی۔ وہ کہتے ہیں، ’ہم انسان ہیں اور جذبات رکھتے ہیں۔ میں آپ کو بتا نہیں سکتا کہ یہ کتنا بے بس کر دینے والا المیہ ہے۔‘
رفح کے ہسپتالوں میں بھی لوگوں کی لمبی قطاریں لگی ہوتی ہیں، جو اپنے اہل خانہ کی لاشوں کی باقیات وصول کرنے آتے ہیں۔ جنوبی غزہ کے یورپین ہسپتال کے صحن میں کپڑوں کے تھیلوں میں ہڈیوں کا مجموعہ اور کپڑے رکھے ہوئے ہیں۔ 19 سالہ عبدالسلام رفح کے رہائشی تھے، جو جنگ کے دوران لاپتہ ہو گئے تھے۔ ان کے انکل ذکی کا ماننا ہے کہ ہسپتال میں موجود ہڈیاں اور کپڑے عبدالسلام کے ہیں۔
عبدالسلام کے بھائی جب ہسپتال پہنچے، تو انہوں نے کھوپڑی اور کپڑوں کو چھوا اور جوتوں کو دیکھا۔ ان کی آنکھوں میں آنسو تھے، اور اس کے ساتھ ہی ایک اور لاش کا شناختی عمل مکمل ہو چکا تھا۔
13 سالہ آیا الدبیح کی کہانی بھی اسی المناک سلسلے کا حصہ ہے۔ وہ غزہ کے شمال میں ایک سکول میں اپنے خاندان کے ساتھ رہائش پذیر تھیں۔ جنگ کے ابتدائی دنوں میں آیا سکول کی اوپری منزل پر بنے باتھ روم گئیں، جہاں انہیں ایک اسرائیلی سنائپر نے سینے پر گولی مار دی۔ آیا کے خاندان نے انہیں سکول کے پاس ہی دفنا دیا تھا، لیکن جب اسرائیلی فوج نے سکول کا کنٹرول سنبھالا، تو آیا کی قبر کے ساتھ کچھ ہوا۔
آیا کی والدہ لینا الدبیح کہتی ہیں، ’ہمیں بتایا گیا کہ اس کا سر کہیں اور ہے، دھڑ کہیں دوسری جگہ، اور پسلیاں کہیں اور۔ جو عزیز اس کی قبر دیکھنے گئے تھے، انہوں نے ہمیں یہ سب چیزیں تصویروں میں دکھائیں۔‘ لینا کے لیے یہ دیکھنا ناقابل برداشت تھا کہ ان کی بیٹی کا جسم قبر سے باہر کیسے آیا اور کتوں نے اسے کیسے کھا لیا۔
غزہ میں جنگ بندی تو ہو گئی ہے، لیکن لینا الدبیح جیسے ہزاروں خاندانوں کے دکھ کا کوئی اختتام نہیں نظر آتا۔ ان کا کہنا ہے، ’میں اس کی لاش کو قبر سے نکال کر اپنے ساتھ نہیں لے جا سکتی تھی۔ بتاؤ میں اُسے کہاں لے کر جاتی؟‘
یہ کہانیاں غزہ کی تباہی کی صرف ایک جھلک ہیں، جہاں ہر روز نئے المیے جنم لے رہے ہیں۔
