نومبر 1990 کی خنک ہوائیں اقبال سٹیڈیم فیصل آباد کی پچ پر اوس کی چادر بچھا رہی تھیں۔ یہ وہ دور تھا جب ویسٹ انڈیز کی کرکٹ ٹیم دنیا بھر میں اپنی دھاک بٹھائے ہوئے تھی۔ لیکن اس ٹیسٹ میچ میں پاکستان کے سامنے ان کی برتری کا سکہ نہ چل سکا۔ میلکم مارشل کی صرف 13 گیندوں نے پاکستانی بیٹنگ لائن کو تہس نہس کر دیا، اور ویسٹ انڈیز نے سات وکٹوں سے فتح حاصل کی۔ لیکن یہ فتح ویسٹ انڈیز کے لیے پاکستانی سرزمین پر آخری ثابت ہوئی۔
35 سال گزر چکے ہیں، لیکن ویسٹ انڈیز اب تک پاکستان میں کوئی ٹیسٹ میچ جیتنے میں ناکام رہے ہیں۔ اس طویل عرصے میں انہوں نے پاکستان کے خلاف صرف سات ٹیسٹ میچ کھیلے ہیں، اور ہر بار شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اب جب کریگ بریتھویٹ کی قیادت میں ویسٹ انڈیز کی ٹیم پاکستان کے دورے پر ہے، تو ان کی کوشش ہوگی کہ وہ اس بدنما ریکارڈ کو ختم کر سکیں۔
ویسٹ انڈیز کی کرکٹ کی تاریخ کا ایک اہم موڑ 1975 کا دورہ آسٹریلیا تھا، جہاں انہیں نہ صرف شکست کا سامنا کرنا پڑا بلکہ نسل پرستانہ رویے کا بھی۔ اس دورے نے ویسٹ انڈین کرکٹ کو ایک نئی سمت دی۔ کلائیو لائیڈ کی قیادت میں ٹیم نے جارحانہ کرکٹ کھیلنے کا فیصلہ کیا، اور اس کے نتیجے میں میلکم مارشل، اینڈی رابرٹس، جوئیل گارنر، اور مائیکل ہولڈنگ جیسے تیز رفتار بولرز نے دنیا بھر میں دہشت پھیلا دی۔
پاکستان نے ویسٹ انڈیز کے خلاف اپنی مضبوطی کا مظاہرہ 1987 کے فیصل آباد ٹیسٹ میں کیا، جہاں عبدالقادر کی گگلی اور عمران خان کی قیادت نے ویوین رچرڈز کی ٹیم کو شکست دی۔ عمران خان کی جارحانہ قیادت نے ویسٹ انڈیز کے لیے ایک نئے چیلنج کو جنم دیا، اور پاکستان ان چند ٹیموں میں سے ایک تھی جو ویسٹ انڈیز کے خلاف کامیابی حاصل کر سکی۔
1990 کے فیصل آباد ٹیسٹ میں ویسٹ انڈیز کی فتح کے بعد سے اب تک پاکستانی سرزمین پر ان کی کوئی ٹیسٹ جیت نہیں ہوئی۔ اس دوران پاکستان کے سپنرز نے ویسٹ انڈیز کے بلے بازوں کو بار بار مشکلات میں ڈالا۔ توصیف احمد کے مطابق، ویسٹ انڈین کرکٹرز 1980 کی دہائی میں ہی پاور ہٹنگ کر رہے تھے، لیکن وہ سپن کے خلاف کمزور ثابت ہوئے۔
اب جب ویسٹ انڈیز کی ٹیم پاکستان کے خلاف ایک بار پھر میدان میں اترنے کو تیار ہے، تو ان کی کوشش ہوگی کہ وہ 35 سالہ تشنگی ختم کر سکیں۔ کوچ آندرے کولے کی قیادت میں یہ ٹیم ماضی کو پیچھے چھوڑ کر مستقبل کی طرف دیکھ رہی ہے۔ اگر وہ اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے پاکستان کے خلاف فتح حاصل کر سکیں، تو یہ ان کے لیے ایک تاریخی لمحہ ہوگا۔
ویسٹ انڈیز کی ٹیم میں موجود کھلاڑیوں کی صلاحیتوں کو دیکھتے ہوئے یہ ممکن ہے کہ وہ پاکستانی سرزمین پر اپنی پہلی ٹیسٹ فتح حاصل کر سکیں۔ لیکن اس کے لیے انہیں نہ صرف اپنی بیٹنگ اور بولنگ میں بہتری لانی ہوگی، بلکہ پاکستان کے سپنرز کے خلاف بھی مضبوط حکمت عملی اپنانا ہوگی۔
35 سال کا انتظار طویل ہو چکا ہے، لیکن کریبیئن کرکٹ کی تاریخ بتاتی ہے کہ وہ مشکل حالات میں بھی اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا سکتے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا وہ پاکستان کے خلاف اپنی اس تشنگی کو ختم کر سکیں گے۔
