امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ’پیدائش پر شہریت‘ کے قانون کو ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے، جس کے تحت امریکہ میں پیدا ہونے والے ہر بچے کو خود بخود امریکی شہریت ملتی ہے۔ صدر ٹرمپ نے پیر کو اس سلسلے میں ایک ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط بھی کیے ہیں، تاہم اس کی تفصیلات ابھی تک واضح نہیں ہیں۔
امریکی آئین کی 14ویں ترمیم کے تحت ’پیدائش پر شہریت‘ کا قانون نافذ کیا گیا تھا، جس میں کہا گیا ہے کہ امریکہ میں پیدا ہونے والے تمام افراد کو امریکی شہری تسلیم کیا جائے گا۔ صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وہ اس قانون کو ختم کر دیں گے، لیکن انہیں اس کے لیے بڑی قانونی رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔
’پیدائش پر شہریت‘ کا قانون 1868 میں امریکی آئین کی 14ویں ترمیم کے ذریعے نافذ کیا گیا تھا۔ اس ترمیم کا مقصد خانہ جنگی کے بعد آزاد کیے گئے غلاموں کو شہریت فراہم کرنا تھا۔ اس سے قبل سپریم کورٹ کے کچھ فیصلوں میں کہا گیا تھا کہ افریقی نژاد افراد امریکی شہری نہیں بن سکتے، لیکن 14ویں ترمیم کے بعد یہ فیصلے کالعدم ہو گئے۔
صدر ٹرمپ کے اس اقدام کو فوراً ہی امریکہ میں شہری آزادیوں کے گروپوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں کی طرف سے چیلنج کر دیا گیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ اقدام امریکی آئین کی خلاف ورزی ہے اور اسے عدالتوں میں چیلنج کیا جائے گا۔
’پیدائش پر شہریت‘ کے قانون کے حامیوں کا کہنا ہے کہ یہ قانون امریکہ میں پیدا ہونے والے ہر فرد کو یکساں حقوق فراہم کرتا ہے، چاہے اس کے والدین کی شہریت کچھ بھی ہو۔ دوسری طرف، امیگریشن مخالف گروہوں کا ماننا ہے کہ یہ قانون غیرقانونی تارکین وطن کو امریکہ آنے کی ترغیب دیتا ہے، خاص طور پر حاملہ خواتین کو، جو اپنے بچوں کو امریکی شہریت دلوانے کے لیے سرحد پار کرتی ہیں۔
سنہ 1898 میں سپریم کورٹ نے ایک تاریخی فیصلے میں کہا تھا کہ ’پیدائش پر شہریت‘ کا قانون پناہ گزینوں کے بچوں پر بھی لاگو ہوگا۔ یہ فیصلہ چینی پناہ گزین وونگ کِم آرک کے مقدمے میں دیا گیا تھا، جنہوں نے دلیل دی تھی کہ وہ امریکہ میں پیدا ہوئے ہیں اور انہیں امریکی شہریت کا حق حاصل ہے۔
قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ کسی ایگزیکٹو آرڈر کے ذریعے ’پیدائش پر شہریت‘ کے قانون کو ختم نہیں کر سکتے۔ یونیورسٹی آف ورجینیا کے قانون کے پروفیسر سائکرشن پرکاش کا کہنا ہے کہ یہ معاملہ عدالتوں میں جائے گا اور بالآخر سپریم کورٹ کو اس پر فیصلہ کرنا ہوگا۔
پیو ریسرچ سینٹر کے مطابق، سنہ 2016 میں غیرقانونی تارکین وطن کے ہاں ڈھائی لاکھ بچوں کی پیدائش ہوئی تھی۔ سنہ 2022 کے اعداد و شمار کے مطابق، امریکہ میں ایسے 12 لاکھ شہری آباد ہیں، جن کی پیدائش غیرقانونی تارکین وطن کے گھر ہوئی تھی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ قانون ختم ہو گیا تو 2050 تک تقریباً 47 لاکھ افراد اس سے متاثر ہو سکتے ہیں۔
صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وہ غیرقانونی تارکین وطن کے بچوں کو امریکہ سے بے دخل کرنا چاہتے ہیں، لیکن ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ وہ خاندانوں کو توڑنا نہیں چاہتے۔ ان کا کہنا تھا کہ خاندانوں کو بچانے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ انہیں ایک ساتھ واپس بھیج دیا جائے۔
یہ بات قابل ذکر ہے کہ امریکہ واحد ملک نہیں ہے جو پیدائش پر شہریت فراہم کرتا ہے۔ کینیڈا، میکسیکو، برطانیہ اور آسٹریلیا جیسے ممالک میں بھی ایسے قوانین موجود ہیں، جو ملک میں پیدا ہونے والے بچوں کو شہریت دیتے ہیں۔
