ڈنمارک کی وزیر اعظم میٹ فریڈرکسن نے امریکہ کے نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان کو مسترد کر دیا ہے۔ حالیہ دنوں میں ٹرمپ نے آرکٹک میں واقع ڈنمارک کے خودمختار علاقے گرین لینڈ کو امریکہ کا حصہ بنانے میں نئی دلچسپی ظاہر کی ہے۔ انھوں نے 2019 میں بطور صدر اپنی پہلی مدت کے دوران گرین لینڈ خریدنے کا ارادہ ظاہر کیا تھا، لیکن اب وہ ایک قدم آگے بڑھ کر گرین لینڈ پر کنٹرول حاصل کرنے کے لیے امریکہ کی اقتصادی یا فوجی طاقت استعمال کرنے کے امکان کو مسترد نہیں کر رہے۔
ڈینش اور یورپی حکام نے ٹرمپ کی خواہشات کا جواب یہ کہہ کر دیا ہے کہ ’گرین لینڈ برائے فروخت نہیں ہے اور اس کی علاقائی سالمیت کا تحفظ ضروری ہے۔‘ گرین لینڈ کے وزیر اعظم میوٹ ایگیڈ نے گزشتہ ماہ واضح طور پر کہا تھا کہ گرین لینڈ اس کے لوگوں کا ہے اور یہ برائے فروخت نہیں ہے۔
ٹرمپ نے سات جنوری کو ایک پریس کانفرنس کے دوران یہ تک کہا تھا کہ وہ گرین لینڈ کا کنٹرول حاصل کرنے کے لیے عسکری طاقت کے استعمال پر بھی غور کر سکتے ہیں۔ انھوں نے کہا تھا کہ گرین لینڈ کی ضرورت معاشی وجوہات کی وجہ سے ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اصل وجہ وہ معدنیات کا خزانہ ہے جو گرین لینڈ میں موجود ہے۔
تاریخی اعتبار سے امریکی حکام اس خطے کو سٹریٹیجک اہمیت کی وجہ سے توجہ دیتے آئے ہیں۔ روس سے قربت کی وجہ سے سرد جنگ کے دوران اسے یورپ اور شمالی امریکہ کے سمندری تجارتی راستے کو محفوظ بنانے کے لیے اہم سمجھا گیا۔ امریکی فوج نے دہائیوں تک یہاں ایک اڈہ قائم رکھا جسے بیلسٹک میزائلوں پر نظر رکھنے کے لیے استعمال کیا جاتا رہا۔
2023 میں جاری ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق، گرین لینڈ میں 38 معدنیات بڑی مقدار میں موجود ہیں، جن میں کاپر، گریفائیٹ، نیوبیئم، ٹائٹینیئم، روڈیئم شامل ہیں۔ اس کے علاوہ نایاب معدنیات جیسے نیوڈیمیئم اور پریسیوڈائمیئم بھی پائی گئی ہیں، جو الیکٹرک گاڑیوں کی موٹر اور ونڈ ٹربائن بنانے میں استعمال ہوتی ہیں۔
مشیگن یونیورسٹی کے پروفیسر ایڈم سائمن کے مطابق، ’گرین لینڈ میں دنیا کی سب سے نایاب معدنیات کا عالمی طور پر 25 فیصد حصہ موجود ہو سکتا ہے۔‘ اگر یہ دعوی درست ہے تو مقدار کے حساب سے یہ پندرہ لاکھ ٹن بنتا ہے۔
چین اس وقت ان معدنیات کی مارکیٹ کا سب سے بڑا کھلاڑی ہے جو ایک تہائی حصے پر کنٹرول رکھتا ہے۔ گرین لینڈ میں اس وقت دو کمپنیاں نایاب معدنیات پانے پر کام کر رہی ہیں، جن میں سے ایک کے پیچھے چینی سرکاری کمپنی کی سرمایہ کاری ہے۔
سوال یہ ہے کہ یہ صورتحال کیا رخ اختیار کر سکتی ہے؟ گرین لینڈ کی 56 ہزار آبادی کی آزادی کی امنگ کو کیسے متاثر کر سکتی ہے جو 300 سال سے ڈنمارک کے زیر تسلط ہے۔ ماہرین کے مطابق، ٹرمپ کی دلچسپی ختم ہو سکتی ہے، یا گرین لینڈ آزادی کے حق میں ووٹ دے سکتا ہے۔
ڈنمارک کے انسٹیٹیوٹ فار انٹرنیشنل سٹڈیز کے سینیئر محقق الریک گڈ کے مطابق، ’اگر گرین لینڈ ڈنمارک سے چھٹکارا حاصل کرنے میں کامیاب بھی ہو جاتا ہے تو حالیہ برسوں میں یہ واضح ہو گیا ہے کہ وہ امریکہ سے چھٹکارا حاصل نہیں کر سکتا۔‘
ٹرمپ کی اقتصادی پالیسیوں کے تحت، ڈنمارک اور یورپی یونین کی اشیا پر محصولات میں نمایاں اضافہ کیا جا سکتا ہے، جس سے ڈنمارک کو گرین لینڈ کے معاملے میں رعایتیں دینے پر مجبور کیا جا سکتا ہے۔
اگرچہ امریکہ کے لیے گرین لینڈ پر کنٹرول حاصل کرنا مشکل نہیں ہوگا، کیونکہ گرین لینڈ میں اس کے پہلے ہی فوجی اڈے اور بڑی تعداد میں فوجی موجود ہیں، لیکن ایسی کارروائی بین الاقوامی سطح پر تنازعے کا باعث بن سکتی ہے۔
ڈاکٹر گیڈ کے مطابق، ’ٹرمپ کی تقریر سے ایسا لگتا ہے جیسے چینی صدر شی جن پنگ تائیوان یا روسی صدر ولادیمیر پوٹن یوکرین کے بارے میں بات کر رہے ہیں۔‘ ان کا کہنا ہے کہ ’ٹرمپ کہہ رہے ہیں کہ اس سرزمین کو حاصل کرنا ہمارے لیے درست ہے۔ اگر ہم واقعی ان کی باتوں کو سنجیدگی سے لیتے ہیں تو یہ مغربی ممالک کے پورے اتحاد کے لیے ایک بری علامت ہے۔‘
