**پاکستان کی معاشی صورتحال: شرح نمو میں اضافہ، افراط زر میں کمی اور نئے پانچ سالہ منصوبے کا اعلان**
پاکستان کے قومی اکاؤنٹس کمیٹی (NAC) کے مطابق مالی سال 2024-25 کے پہلے سہ ماہی میں جی ڈی پی کی شرح نمو 0.92 فیصد رہی۔ اس دوران زراعت کے شعبے میں 1.15 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا، تاہم اہم فصلیں جیسے کپاس، مکئی، چاول اور گنا کی پیداوار میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی۔ صنعتی شعبے میں منفی 1.03 فیصد کی کمی نوٹ کی گئی، جبکہ خدمات کے شعبے میں 1.43 فیصد کا اضافہ ہوا۔
گذشتہ مالی سال 2024 کے لیے جی ڈی پی کی شرح نمو میں معمولی کمی کرتے ہوئے 2.5 فیصد تک ایڈجسٹ کر دی گئی۔ دوسری جانب، پاکستان بیورو آف سٹیٹسٹکس (PBS) کے اعداد و شمار کے مطابق دسمبر 2024 میں افراط زر کی شرح 4.1 فیصد تک گر گئی، جو گذشتہ چھ سالوں میں سب سے کم سطح ہے۔ خوراک کی قیمتوں میں اضافے کی شرح میں بھی نمایاں کمی دیکھی گئی، جو گذشتہ سال کے مقابلے میں صرف 0.3 فیصد رہی۔
برآمدات کے شعبے میں بھی پہلے سہ ماہی میں 10.52 فیصد کا اضافہ دیکھنے میں آیا، جس کی مالیت 16.6 ارب ڈالر تک پہنچ گئی۔ تاہم، درآمدات میں بھی 6.1 فیصد کا اضافہ ہوا، جس کی وجہ سے تجارتی خسارہ 11.2 ارب ڈالر تک پہنچ گیا۔ دسمبر 2024 میں درآمدات میں 14 فیصد کے اضافے کے باعث تجارتی خسارے میں 46.6 فیصد کی نمایاں اضافہ ہوا۔
متحدہ عرب امارات (یو اے ای) نے پاکستان کو دیے گئے 2 ارب ڈالر کے قرض کی ادائیگی کی مدت میں توسیع کر دی ہے۔ یہ فیصلہ وزیراعظم شہباز شریف اور یو اے ای کے صدر شیخ محمد بن زاید آل نہیان کے درمیان ہونے والی ملاقات کے بعد کیا گیا، جس کا مقصد پاکستان کی معاشی استحکام کو فروغ دینا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے 31 دسمبر 2024 کو “عُران پاکستان” کے نام سے ایک نئے پانچ سالہ معاشی و سماجی منصوبے کا اعلان کیا۔ اس منصوبے کا مقصد پاکستان کی معیشت کو نئی توانائی فراہم کرنا ہے، جس کے لیے پانچ اہم شعبوں پر توجہ مرکوز کی جائے گی: برآمدات کو فروغ دینا، ڈیجیٹل تبدیلی کو تیز کرنا، سماجی انصاف کو یقینی بنانا، ماحولیاتی تحفظ کو فروغ دینا، اور توانائی و بنیادی ڈھانچے کے شعبوں میں بہتری لانا۔ اس منصوبے کا ہدف پاکستان کے جی ڈی پی کو دس سالوں میں تین گنا بڑھا کر 1000 ارب ڈالر تک پہنچانا ہے، جبکہ 2047 تک اسے 3000 ارب ڈالر تک لے جانے کا عزم ظاہر کیا گیا ہے۔
یہ اقدامات پاکستان کی معاشی صورتحال کو بہتر بنانے کی جانب اہم قدم ہیں، جس سے ملک کی ترقی اور استحکام کو نئی راہیں ملنے کی توقع ہے۔
