واشنگٹن: ڈونلڈ ٹرمپ، جو 20 جنوری کو امریکا کے 47 ویں صدر کے طور پر حلف اٹھائیں گے، کو سالانہ 4 لاکھ ڈالر کی تنخواہ ملے گی۔ یہ رقم ان کے عہدے کے ساتھ منسلک دیگر مالی اور غیر مالی مراعات کے علاوہ ہے۔ صدر ٹرمپ کو اپنے چار سالہ دور میں مجموعی طور پر 16 لاکھ ڈالر کی تنخواہ ملے گی۔
صدر کی تنخواہ کے علاوہ، انہیں سالانہ 1 لاکھ ڈالر کا سفر کا بجٹ، 19 ہزار ڈالر کا تفریحی بجٹ، اور 50 ہزار ڈالر کی غیر ٹیکس قابل ذاتی الاؤنس بھی دی جائے گی۔ یہ تمام اخراجات صرف سرکاری فرائض کی انجام دہی کے لیے استعمال کیے جائیں گے۔ اس کے علاوہ، صدر کو ایئر فورس ون، میرین ون، وائٹ ہاؤس کی رہائش، کیمپ ڈیوڈ کی ریزورٹ، اور ایک سرکاری لیموزین جیسی سہولیات بھی فراہم کی جائیں گی۔
اگرچہ امریکا دنیا کا سب سے طاقتور ملک ہے، لیکن صدر ٹرمپ دنیا کے سب سے زیادہ تنخواہ لینے والے سربراہان مملکت میں چوتھے نمبر پر ہیں۔ سنگاپور کے وزیر اعظم لارنس وونگ، جو سالانہ 16 لاکھ ڈالر سے زیادہ کماتے ہیں، اس فہرست میں سرفہرست ہیں۔ جرمنی کے چانسلر اور سوئٹزرلینڈ کے صدر بھی ٹرمپ سے زیادہ تنخواہ لیتے ہیں۔
صدر کے عہدے سے ریٹائرمنٹ کے بعد بھی، ٹرمپ کو سالانہ 2 لاکھ ڈالر کی پنشن ملے گی۔ ان کے سفر کے اخراجات، طبی کوریج، اور سیکرٹ سروس کی حفاظت بھی زندگی بھر کے لیے فراہم کی جائے گی۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے 5 نومبر 2024 کو کمالا ہیرس کو شکست دے کر دوبارہ صدارتی انتخابات جیتے تھے۔ ان کا دوسرا دور 20 جنوری 2025 کو شروع ہوگا، جس کے ساتھ ہی وہ امریکا کے 47 ویں صدر بن جائیں گے۔
