خیبر پختونخوا کے ضلع کرم میں سکیورٹی فورسز کا شرپسندوں کے خلاف آپریشن تیسرے دن بھی جاری ہے۔ پولیس کے مطابق بگن اور اس کے مضافاتی علاقوں میں گن شپ ہیلی کاپٹروں کی مدد سے مختلف اہداف کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ تمام راستے بند ہیں اور سکیورٹی فورسز کے دستے علاقے میں تعینات ہیں۔ پولیس اہلکاروں کا کہنا ہے کہ پورا علاقہ فوج کے محاصرے میں ہے اور کسی کو بھی داخلے کی اجازت نہیں۔
حکام کے مطابق لوئر کرم کے جن علاقوں میں مشتبہ شدت پسند موجود ہیں، وہاں ان کے خلاف کارروائیاں ناگزیر ہو چکی تھیں۔ ان کارروائیوں کا مقصد شرپسندوں کے بنکر مسمار کرنا اور پشاور سے پاڑہ چنار تک راستے کو محفوظ بنانا ہے، جو فرقہ ورانہ تشدد کے پیش نظر 100 سے زائد دن سے عام ٹریفک کے لیے بند ہے۔ صوبائی حکومت کو خدشہ ہے کہ مسلح شدت پسند مقامی آبادی میں شامل ہو گئے ہیں اور یہ کارروائیاں انھی عناصر کے خلاف کی جا رہی ہیں۔
لوئر کرم کے علاقے بگن، چھپری، اوچت، ڈاٹ کمر، مندوری اور قریبی علاقوں میں فوج اور فرنٹیئر کانسٹیبلری (ایف سی) کے جوان موجود ہیں۔ مقامی افراد کے مطابق انھوں نے دھماکوں اور فائرنگ کی آوازیں سنی ہیں۔ بگن کے صحافی محمد ریحان نے بتایا کہ زیادہ تر کارروائیاں بگن میں پستوانہ، رزغائے، میدانی، خا چینہ، تودہ چینہ، مندارہ اور قریبی علاقوں میں جاری ہیں۔
بگن سے ایک پولیس افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ ان کارروائیوں کے دوران گولہ باری کی گئی ہے، تاہم اب تک یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ کتنا جانی نقصان ہوا ہے۔ بگن کے رہائشی افضل خان کا کہنا ہے کہ بگن کے متاثرین کا مندوری کے مقام پر دھرنا بھی جاری ہے، جس میں حکومت سے بگن متاثرین کو معاوضہ اور بگن پر لشکر کشی میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
کوہاٹ گرینڈ جرگے میں کرم امن معاہدے پر عملدرآمد کے نتیجے میں لوئر کرم کے علاقے بگن میں سکیورٹی فورسز نے مقامی لوگوں سے اسلحہ جمع کرنا بھی شروع کر دیا ہے۔ محمد ریحان کے مطابق کرم امن معاہدے کے نکات میں سے دونوں فریقین سے اسلحہ جمع کرنا تھا، جس پر عملدرآمد شروع کرتے ہوئے بگن اور ملحقہ علاقوں سے بغیر لائسنس اسلحہ جمع کیا گیا۔
بگن سے ایک مشر ملک اقبال بادشاہ نے دعویٰ کیا ہے کہ بگن کو 22 نومبر کو لوٹا گیا اور پھر جلایا گیا، جس کے بعد علاقے میں بدامنی کے واقعات شروع ہوئے۔ اب بگن کا فوجی آپریشن بھی ہو رہا ہے اور لوگوں سے اسلحہ بھی جمع کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بگن سے بھاری اسلحہ 2007 اور 2013 میں بھی جمع کیا گیا تھا۔
ضلع کرم کے ساتھ واقع ضلع ہنگو میں متاثرین کے لیے کیمپ قائم کیا گیا ہے۔ ہنگو کے ڈپٹی کمشنر گوہر زمان وزیر نے بتایا کہ ان کی طرف سے تمام تیاریاں مکمل ہیں اور صوبائی حکومت کے جانب سے ریلیف کا سارا سامان بھی پہنچ گیا ہے، جو تحصیل دفتر میں رکھا گیا ہے، لیکن اب تک ان کے کیمپ میں لوگ نہیں آئے۔ انھوں نے بتایا کہ عام طور پر یہ لوگ کیمپس میں نہیں آتے بلکہ اپنے رشتہ داروں یا کرائے کے مکانات میں رہنے کو ترجیح دیتے ہیں۔
صوبائی حکومت کی جانب سے ضلع کرم میں کوئی ساڑھے تین ماہ سے جاری کشیدگی کم کرنے اور امن کے قیام کے لیے متعدد کوششیں کی گئیں۔ اس کے لیے مخالف دھڑوں سے جرگے میں مذاکرات اور معاہدے بھی کیے گئے۔ سینیئر صحافی اور تجزیہ کار علی اکبر نے بتایا کہ تین ماہ سے زیادہ وقت گزر گیا ہے، لیکن یہ مسئلہ حل نہیں ہو رہا تھا، جس کے بعد ایک محدود سطح پر ٹارگٹڈ آپریشن شروع کیا گیا۔ انھوں نے کہا کہ ضلع کرم ایک مشکل علاقہ ہے اور اس مرتبہ کرم میں متعدد سٹیک ہولڈرز شامل ہیں۔
ضلع کرم میں مختلف قبائل کے درمیان تنازعات اور جھڑپوں اور پھر اس میں فرقہ وارانہ تشدد کے واقعات کا پیش آنا یہاں دہائیوں سے جاری ہے۔ اس مرتبہ کشیدگی 12 اکتوبر 2024 کو شروع ہوئی، جب ایک ٹارگٹ کلنگ کا واقعہ پیش آیا، جس کے بعد ایک قافلے پر حملہ ہوا، جس میں متعدد ہلاکتیں ہوئی تھیں۔ ان واقعات کے بعد لوئر کرم سے اپر کرم تک جانے والے راستے مقامی لوگوں نے بند کر دیے تھے، جس سے اپر کرم یعنی پاڑہ چنار اور دیگر علاقوں کو رسد بند کر دی گئی تھی۔
21 نومبر کو سکیورٹی اہلکاروں کے تحفظ میں ایک قافلہ کرم بھیجا گیا، لیکن اس قافلے پر اوچت کے قریب مسلح افراد نے حملہ کر دیا، جس میں 50 کے قریب ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے تھے۔ اس کے بعد 22 نومبر کو بگن بازار پر مسلح افراد نے حملہ کر دیا، جس میں بازار میں دکانوں اور مکانات کو آگ لگا دی گئی اور اس میں 32 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔
علاقے میں کشیدگی برقرار رہی تو حکومت کی جانب سے معاملات کو سلجھانے اور امن کے قیام کے لیے جرگے اور کمیٹیاں قائم کی گئیں۔ دونوں جانب سے فریقین کے ساتھ مذاکرات کے بعد ایک معاہدہ طے پا گیا۔ اس کے بعد دو مرتبہ اشیائے ضروریہ پاڑہ چنار تک پہنچانے کے لیے اقدامات کیے گئے اور کئی ٹرک پاڑہ چنار پہنچ گئے، لیکن تین روز پہلے ایک مرتبہ پھر جب سامان سے لدے 34 ٹرک پاڑہ چنار جا رہے تھے، تو ان پر پھر حملہ ہوا، جس میں گاڑیوں کو آگ لگا دی گئی۔ اس دوران کچھ گاڑیوں کو لوٹا گیا اور پانچ ڈرائیورز سمیت سات افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے تھے۔
پاڑہ چنار کی صورتحال بھی تشویشناک ہے۔ کرم کے سینیئر صحافی علی افضل نے بتایا کہ علاقے میں بازار بند ہیں، ضروری اشیا کا ملنا مشکل ہو گیا ہے اور علاقے میں لوگ فاقوں پر مجبور ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کی جانب سے ہیلی کاپٹر کے ذریعے جو سامان آ رہا ہے، وہ آٹے میں نمک کے برابر ہے اور نجی سطح پر میڈیکل سٹورز پر بنیادی ادویات بھی دستیاب نہیں ہیں۔
گذشتہ روز پاڑہ چنار میں قبائلی عمائدین کا جرگہ منعقد ہوا، جس میں سابق سینیٹر علامہ سید عابد الحسینی اور خطیب جامعہ مسجد علامہ فدا مظاہری سمیت دیگر عمائدین نے شرکت کی تھی۔ اس جرگے میں انھوں نے دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کے باعث راستے کھولنے کے لیے دی گئی تین روز کی ڈیڈ لائن مؤخر کر دی ہے اور کہا ہے کہ اس کارروائی سے راستے کھلنے کی امید پیدا ہو گئی ہے۔
