پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کا حالیہ اشتہار جس میں ایک طیارے کو ایفل ٹاور کے بالکل سامنے دکھایا گیا ہے، سوشل میڈیا پر شدید تنقید کا نشانہ بن گیا ہے۔ اشتہار میں لکھا گیا ہے کہ “پیرس ہم آج آ رہے ہیں”، لیکن تصویر کو دیکھ کر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ طیارہ ایفل ٹاور سے ٹکرانے والا ہے۔
یہ اشتہار پی آئی اے کی جانب سے پیرس کے لیے پروازوں کے دوبارہ آغاز کا اعلان کرنے کے لیے بنایا گیا تھا۔ یاد رہے کہ یورپی یونین کی جانب سے عائد پابندیوں کے خاتمے کے بعد پی آئی اے نے 10 جنوری 2025 سے اسلام آباد سے پیرس کے لیے اپنی پروازیں دوبارہ شروع کی ہیں۔ تاہم، اشتہار کی تصویر نے نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں لوگوں کو حیران کر دیا ہے۔
سوشل میڈیا پر صارفین نے اس اشتہار پر کڑی تنقید کی ہے۔ کئی لوگوں نے اسے 9/11 کے واقعات کی یاد دلاتے ہوئے کہا کہ کیا یہ ایک دھمکی ہے؟ ایک صارف عاصمہ اقبال نے لکھا، “یہ پیرس میں واپسی کا پیغام ہے یا ایفل ٹاور گرانے کی وارننگ؟” جبکہ ڈاکٹر پارک پٹیل نے سوال کیا، “کیا یہ ایک دھمکی ہے؟”
یاد رہے کہ 11 ستمبر 2001 کو خودکش حملہ آوروں نے چار امریکی مسافر بردار طیارے اغوا کر کے نیویارک اور واشنگٹن میں اہم عمارات سے ٹکرا دیا تھا۔ اس واقعے کے بعد ایسی تصاویر کو دیکھ کر لوگوں کے ذہنوں میں وہ المناک دن تازہ ہو گئے ہیں۔
کچھ صارفین نے پی آئی اے کے 1979 کے اشتہار کا بھی حوالہ دیا، جس میں نیویارک کے ٹوئن ٹاورز پر ایئر لائنز کے طیارے کا سایہ دکھایا گیا تھا۔ ایک صارف نے طنزیہ انداز میں لکھا، “یہ جان کر خوشی ہوئی کہ آپ نے ابھی تک اسی گرافک ڈیزائنر کو نوکری پر رکھا ہوا ہے۔”
تاہم، کچھ لوگوں نے اس صورتحال سے لطف اندوز ہوتے ہوئے مزاحیہ گرافکس بھی بنائے ہیں۔ ایک صارف نے ایئر فرانس کے طیارے کو مینارِ پاکستان سے ٹکرانے والا گرافک بنایا اور ساتھ لکھا، “لاہور ہم آج آ رہے ہیں۔” ایک اور صارف نے لکھا، “پی آئی اے کا اشتہار دیکھنے کے بعد ایفل ٹاور شرم سے جھک گیا اور بولا، ’تو لنگ جا ساڈی خیر اے‘۔”
پی آئی اے کے ترجمان عبداللہ حفیظ نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ یہ اشتہار ایک پرنٹ کا تھا جس کا مقصد صرف یہ اعلان کرنا تھا کہ پی آئی اے پیرس کے لیے اپنے آپریشن کا آغاز کرنے جا رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ سب کچھ ایک حکمت عملی کے تحت کیا گیا تھا اور اس پوسٹ پر دو کروڑ سے زیادہ ویوز آ چکے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا، “یہ ایئرلائن انڈسٹری کا عمومی طریقہ کار ہے کہ آپ اپنے طیاروں کی نئی منزلوں کا اعلان کرتے ہیں اور ان اشتہاروں میں اپنے طیاروں اور برانڈ کا نام بھی ڈالتے ہیں۔”
شاید ایسے مواقع کے لیے ہی شاعر نے کہا تھا: “بدنام اگر ہوں گے تو کیا نام نہ ہو گا۔”
