ایران کے طاقتور انقلابی گارڈز نے جنگ بندی معاہدے کو حماس کی ’عظیم فتح‘ قرار دیتے ہوئے اسے 7 اکتوبر 2023 کے حملے سے تشبیہ دی ہے جس نے موجودہ تنازعے کو جنم دیا تھا۔ جمعرات کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر پوسٹ کرتے ہوئے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے کہا کہ ایرانی حمایت یافتہ ’مقاومت محاذ‘ نے ’صہیونی حکومت کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کر دیا ہے‘۔ ایران حماس کا طویل عرصے سے حامی رہا ہے اور نیو یارک ٹائمز کی جانب سے گزشتہ سال شائع ہونے والے دستاویزات کے مطابق، حماس نے 7 اکتوبر کے حملے کی حمایت کے لیے ایران سے رابطہ کیا تھا۔ دستاویزات کے مطابق، ایک ایرانی کمانڈر نے حماس کو بتایا کہ ایران اور لبنانی عسکری و سیاسی گروپ حزب اللہ اصولی طور پر حمایت کرتے ہیں، لیکن انہیں تیاری کے لیے مزید وقت درکار ہے۔ آخر کار دونوں گروپوں نے حملے میں حصہ نہیں لیا۔
غزہ میں 40 ملین ٹن ملبہ، اقوام متحدہ کا انکشاف
اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام کے سربراہ کا کہنا ہے کہ غزہ میں ترقی کے ’دہائیوں‘ کا نقصان ہوا ہے۔ انہوں نے بی بی سی ورلڈ سروس کے پروگرام نیوز ڈے کو بتایا کہ ’ہم صرف 40 ملین ٹن ملبے سے نمٹ رہے ہیں جسے ہٹانا ضروری ہے۔ یہ ملبہ انتہائی خطرناک، زہریلا اور غیر پھٹے ہوئے گولہ بارود سے بھرا ہوا ہے‘۔ اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام کے سربراہ اچم سٹینر، جو بے گھر ہونے والے افراد کی بحالی اور رہائش کی کوششوں کی نگرانی کر رہے ہیں، کا کہنا ہے کہ ملبے کو صاف کرنے کے لیے ایک بڑی کوشش کی ضرورت ہے تاکہ لوگ اپنے گھروں یا پناہ گاہوں میں واپس آ سکیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’یہ ایک انتہائی پیچیدہ عمل ہے جس کا ہمیں سامنا ہے‘۔ سٹینر نے یہ بھی کہا کہ جنگ بندی معاہدے کے بعد پہلے 42 دنوں میں لڑائی کی مکمل بندش اور غزہ میں انسان دوست امداد تک رسائی اولین ترجیح ہونی چاہیے۔
جنگ بندی سے قبل اسرائیلی حملوں میں 20 سے زائد ہلاک
حماس کی زیر نگرانی سول ڈیفنس ایجنسی کے مطابق، جنگ بندی معاہدے کے اعلان کے بعد گزشتہ رات غزہ میں اسرائیلی فضائی حملوں میں 20 سے زائد افراد ہلاک ہو گئے۔ ایجنسی کے مطابق، متاثرین میں غزہ سٹی کے شیخ رضوان محلے میں ایک رہائشی بلاک میں رہنے والے 12 افراد بھی شامل ہیں۔ اسرائیلی فوج کی جانب سے فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا۔ اگرچہ جنگ بندی معاہدے کا اعلان ہو چکا ہے، لیکن اسے ابھی اسرائیلی کابینہ کی منظوری درکار ہے، اور اگر منظور ہو گیا تو یہ اتوار تک نافذ نہیں ہو گا۔ اسرائیل نے ماضی میں جنگ بندی کے نفاذ سے قبل فضائی حملے کیے ہیں، جن میں حال ہی میں لبنان میں بھاری بمباری شامل ہے جو نومبر میں وہاں جنگ بندی سے چند گھنٹے قبل کی گئی تھی۔
جنگ بندی معاہدے کے تحت پہلے مرحلے میں غزہ میں قید 33 یرغمالیوں کو رہا کیا جائے گا جبکہ اس کے بدلے میں اسرائیلی جیلوں میں قید درجنوں فلسطینی قیدیوں کو رہا کیا جائے گا۔
غزہ میں جنگ بندی کے اعلان پر خوشی کا اظہار
جنگ بندی معاہدے کے اعلان کے بعد غزہ کے مرکزی شہر دیر البلاح اور جنوبی شہر خان یونس میں لوگوں نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے فلسطینی پرچم لہرائے۔ غزہ سٹی میں رہنے والی 17 سالہ سنابل نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ہم سب خوش ہیں‘۔ انہوں نے کہا کہ ’ہم طویل عرصے سے اس کا انتظار کر رہے تھے۔ آخرکار، میں بے فکری سے اپنا سر تکیے پر رکھ سکوں گی… یہ شفا یابی کا وقت ہے‘۔ نوارہ النجار، جن کے شوہر اسرائیلی فوج کی جانب سے دو یرغمالیوں کو بچانے کے لیے کیے گئے آپریشن میں ہلاک ہونے والے 70 سے زائد افراد میں شامل تھے، نے کہا کہ ’جنگ بندی کے بعد میں اپنے بچوں کو بہترین زندگی دینا چاہتی ہوں‘۔ انہوں نے کہا کہ ’میں چاہتی ہوں کہ وہ اس خوف سے نکل جائیں جس میں ہم رہے۔ میرے بچے واقعی خوفزدہ ہیں۔ دہشت ان کے دلوں میں بیٹھ چکی ہے‘۔
اسرائیلی کابینہ جنگ بندی معاہدے پر غور کرے گی
اسرائیل کی کابینہ جمعرات کو جنگ بندی معاہدے پر غور کرے گی، جس کے بعد اتوار سے چھ ہفتوں کی جنگ بندی کا آغاز ہو گا۔ بہت سے فلسطینیوں اور اسرائیلی یرغمالیوں کے خاندانوں نے اس خبر پر خوشی کا اظہار کیا ہے، لیکن جنگ میں کوئی کمی نہیں آئی ہے۔ غزہ کی سول ڈیفنس ایجنسی کے مطابق، معاہدے کے اعلان کے بعد سے کم از کم 20 فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں۔
امریکی صدر جو بائیڈن نے اس اقدام کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ ’غزہ میں لڑائی کو روک دے گا، فلسطینی شہریوں کو درکار انسان دوست امداد فراہم کرے گا، اور یرغمالیوں کو ان کے خاندانوں سے ملا دے گا‘۔
