گوجرانوالہ: وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے موریطانیہ کشتی حادثے میں ملوث انسانی اسمگلر عدیل احمد کو مظفر گڑھ سے گرفتار کر لیا۔ ملزم نے گجرات کے رہائشی ریحان سے 40 لاکھ روپے وصول کیے تھے، جو بعد میں مذکورہ حادثے میں جاں بحق ہو گیا۔
ایف آئی اے حکام کے مطابق، ریحان کو پاکستان سے دبئی اور پھر ایتھوپیا کے راستے سینیگال لے جایا گیا تھا۔ وہاں سے وہ موریطانیہ پہنچا، جہاں اسے کشتی حادثے کا سامنا کرنا پڑا۔ ملزم عدیل احمد حادثے کے بعد سے روپوش تھا، جس کے خلاف ریحان کے ورثا نے مقدمہ درج کروایا تھا۔ گرفتاری کے بعد ملزم کو گوجرانوالہ منتقل کیا جائے گا۔
یاد رہے کہ 16 دسمبر کو افریقی ملک موریطانیہ سے غیر قانونی طور پر اسپین جانے والوں کی کشتی کو حادثہ پیش آیا تھا، جس کے نتیجے میں 44 پاکستانیوں سمیت 50 تارکین وطن ہلاک ہو گئے تھے۔ حادثے میں زندہ بچ جانے والوں نے بتایا تھا کہ سینیگال، موریطانیہ اور مراکش کے انسانی اسمگلرز نے تارکین وطن پر تشدد کیا اور بھوک پیاس سے جاں بحق ہونے والے 4 لڑکوں کو سر اور چہرے پر ہتھوڑے سے ضربیں لگا کر سمندر میں پھینک دیا گیا تھا۔
اس واقعے نے انسانی اسمگلنگ کے خلاف کارروائیوں کی ضرورت کو مزید اجاگر کیا ہے۔ ایف آئی اے کی جانب سے ملزم کی گرفتاری کو اس سلسلے میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
