پاکستان میں مہنگائی اور ٹیکسوں میں مسلسل اضافے کے درمیان قومی اسمبلی کے اراکین کی تنخواہوں میں اچانک اضافے کی خبر نے عوام کے اندر بے چینی پیدا کر دی ہے۔ سپیکر قومی اسمبلی نے اراکین کے لیے تنخواہوں میں اضافے کی منظوری دی ہے، جس کے مطابق ہر رکن کی ماہانہ تنخواہ پانچ لاکھ انیس ہزار روپے مقرر کی گئی ہے۔ یہ اضافہ یکم جنوری 2025 سے نافذ العمل ہوگا۔
اس اضافے کی منظوری کے بعد اب اراکین اسمبلی کو جنوری کی نظرثانی شدہ تنخواہ ملے گی، تاہم سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کی تنخواہوں میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی اور وہ اب بھی دو لاکھ 18 ہزار روپے ماہانہ وصول کریں گے۔ پارلیمان کے ذرائع کے مطابق اس فیصلے کا باقاعدہ نوٹیفیکیشن جلد جاری کیا جائے گا۔
مسلم لیگ نون کے سینیٹر طلال چوہدری نے اس اضافے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ اراکین قومی اسمبلی کی تنخواہوں میں اضافے کا نوٹیفیکیشن جاری ہو چکا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس وقت خطے میں پاکستان کے پارلیمنٹیرینز کی تنخواہیں سب سے کم ہیں اور یہ 22ویں گریڈ کے افسر کی تنخواہ سے بھی کم ہیں۔
دوسری جانب، سوشل میڈیا پر عوام کی جانب سے اس فیصلے پر سخت تنقید کی جا رہی ہے۔ صارفین کا کہنا ہے کہ ایک طرف تو ملک میں مہنگائی بڑھ رہی ہے اور دوسری طرف حکومتی اراکین اپنی تنخواہیں بڑھانے میں مصروف ہیں۔ کچھ سوشل میڈیا صارفین نے اس اقدام کو حکومت کی عدم توجہی اور عوام کے مسائل سے عدم دلچسپی قرار دیا ہے۔
ماہرین کے مطابق، اراکین اسمبلی کو دیگر مراعات بھی فراہم کی جاتی ہیں، جیسے کہ سفر کے لیے ٹکٹ اور یومیہ الاؤنس، جس سے ان کی بنیادی تنخواہ کا بڑا حصہ ان کے ہاتھ میں رہتا ہے۔ آئینی ماہر احمد بلال محبوب نے اس بات کی وضاحت کی کہ اگرچہ اراکین کی تنخواہ میں اضافہ کیا گیا ہے، لیکن ان کی ذمہ داریوں کے لحاظ سے یہ ایک فل ٹائم جاب ہے اور انہیں مناسب معاوضہ ملنا چاہیے۔
حکومتی فیصلوں کے خلاف عوامی ردعمل نے یہ سوال اٹھایا ہے کہ آیا اس قدر اضافے کی واقعی ضرورت تھی؟ ماہر معیشت صدام حسین نے بھی تنخواہوں کے اضافے کے حوالے سے اعداد و شمار پیش کیے ہیں، جن کے مطابق ایک ایم این اے پر روزانہ تقریباً 7 لاکھ روپے خرچ ہوتے ہیں، جس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اراکین اسمبلی کی تنخواہوں میں اضافہ کافی زیادہ ہے۔
اس صورتحال میں یہ دیکھنا ہوگا کہ کیا حکومت اس فیصلے پر نظر ثانی کرے گی یا عوامی ردعمل کا سامنا کرتے ہوئے یہ اضافہ برقرار رکھے گی۔
