سابق روسی جمناسٹ علینہ کبائیوا، جو روسی صدر ولادیمیر پوتن کی قریبی دوست سمجھی جاتی ہیں، ایک بار پھر خبروں کی زینت بنی ہوئی ہیں۔ علینہ اپنی سکائی گریس جمناسٹک اکیڈمی کو فروغ دینے کے لیے منظر عام پر آ رہی ہیں۔ ان کی اس سرگرمی سے صدر پوتن پر کیا اثر پڑ سکتا ہے، یہ سوال زیر بحث ہے۔
علینہ کبائیوا اور پوتن کے تعلقات کی خبروں نے کافی عرصے سے توجہ حاصل کی ہوئی ہے۔ گذشتہ برس قازان شہر میں برکس گیمز کے دوران علینہ کے اکیڈمی کے کھلاڑیوں نے روسی کھلاڑیوں سے علیحدہ حیثیت میں حصہ لیا، جو ان کے کلب کی ترقی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
علینہ کی ذاتی زندگی کے بارے میں بھی کئی قیاس آرائیاں موجود ہیں۔ مختلف رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ وہ صدر پوتن کے بچوں کی والدہ ہیں، تاہم ان افواہوں کی کبھی تصدیق نہیں کی گئی۔ علینہ پر امریکہ، برطانیہ اور یورپی یونین کی جانب سے پابندیاں بھی ان کے پوتن سے قریبی تعلقات کی وجہ سے عائد کی گئی تھیں۔
علینہ نے 2007 میں جمناسٹک سے ریٹائرمنٹ لے کر روسی سیاست میں قدم رکھا اور کئی برس تک پارلیمنٹ کی رکن رہیں۔ انہوں نے نیشنل میڈیا گروپ میں بھی اہم کردار ادا کیا۔ ان کی موجودہ سرگرمیاں، خاص طور پر سکائی گریس جمناسٹک اکیڈمی کی ترویج، صدر پوتن کی حمایت کے بغیر ممکن نہیں سمجھی جاتیں۔
علینہ کی اکیڈمی کو سرکاری گیس کمپنی کی جانب سے دو ارب روبل کی مدد مل چکی ہے اور یہ روس میں ایک منفرد مقام رکھتی ہے۔ ان کے کلب کو مختلف ٹورنامنٹس کے انعقاد کی اجازت ہے اور وہ اپنی مرضی کے مطابق انہیں منظم کرتے ہیں۔
علینہ کی منظر عام پر واپسی کے ساتھ ہی ان کی سوشل میڈیا پر موجودگی بھی بڑھ گئی ہے۔ ان کی حالیہ ویڈیوز اور تصاویر کے ذریعے یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ وہ دوبارہ عوامی زندگی میں واپس آ چکی ہیں۔
یہ واضح نہیں کہ علینہ نے اس وقت منظر عام پر آنے کا فیصلہ کیوں کیا، جب یوکرین میں جنگ جاری ہے اور انہیں بین الاقوامی پابندیوں کا سامنا ہے۔ تاہم یہ بات واضح ہے کہ ان کی واپسی نے ایک بار پھر میڈیا کی توجہ حاصل کر لی ہے اور ان کے اقدامات کو صدر پوتن کی حمایت حاصل ہے۔
