قومی کرکٹ ٹیم کے کھلاڑی امام الحق، جنہیں چیمپئنز ٹرافی کے ون ڈے اسکواڈ میں شامل ہونے کے لیے ایک مضبوط امیدوار سمجھا جا رہا تھا، کو قومی ٹیم میں شامل نہیں کیا گیا۔ اس صورتحال پر امام الحق نے سوشل میڈیا پر ایک معنی خیز پیغام جاری کیا ہے۔
اپنی ٹوئٹ میں امام الحق نے کہا کہ “نتیجہ میری توقع کے مطابق نہیں ہے، لیکن سفر ابھی ختم نہیں ہوا۔ یہی زندگی ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ “یہی سب کچھ ہے کہ ہر مشکل کے ساتھ آگے بڑھنا ہے، خود کو مضبوط بنانا ہے، اور سب سے اہم صبر اور اللہ پر بھروسہ ہے۔” یہ پیغام ان کی عزم و ہمت کی عکاسی کرتا ہے۔
پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے حال ہی میں سہ فریقی سیریز اور چیمپئنز ٹرافی 2025 کے لیے قومی ٹیم کا اعلان کیا۔ 15 رکنی اسکواڈ میں بابر اعظم، فخر زمان، کامران غلام، سعود شکیل، اور طیب طاہر جیسی اہم بیٹرز شامل ہیں۔ آل راؤنڈرز میں فہیم اشرف، خوشدل شاہ، اور نائب کپتان سلمان علی آغا کی شمولیت بھی اہم ہے۔ وکٹ کیپر بیٹرز کے طور پر محمد رضوان (کپتان) اور عثمان خان شامل ہیں، جبکہ بولنگ کے شعبے میں ابرار احمد، حارث رؤف، محمد حسنین، نسیم شاہ، اور شاہین شاہ آفریدی کو منتخب کیا گیا ہے۔
امام الحق کی عدم شمولیت نے کرکٹ حلقوں میں بھی بحث و مباحثے کو جنم دیا ہے۔ ان کا پیغام نوجوان کھلاڑیوں کے لیے ایک مثال بن سکتا ہے کہ مشکلات کے باوجود ہمت نہ ہاریں اور آگے بڑھتے رہیں۔ چیمپئنز ٹرافی کے لیے قومی ٹیم کی تیاریوں کا آغاز ہو چکا ہے، اور امید کی جا رہی ہے کہ منتخب کھلاڑی اپنی بہترین کارکردگی سے قوم کی توقعات پر پورا اتریں گے۔
