چین نے امریکہ کی جانب سے عائد کردہ 10 فیصد اضافی ٹیرف کے جواب میں امریکی مصنوعات پر 10 سے 15 فیصد تک اضافی ٹیکس عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس اقدام کے تحت چین نے امریکہ سے کوئلے اور مائع قدرتی گیس کی درآمد پر 15 فیصد جبکہ خام تیل، زرعی مشینری، پک اپ ٹرک اور بڑی انجن والی گاڑیوں پر 10 فیصد تک ٹیکس عائد کیا ہے۔
یہ صورتحال اس وقت پیدا ہوئی جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چینی مصنوعات پر 10 فیصد ٹیرف عائد کیا، جو کہ منگل کے روز سے نافذ العمل ہو چکا ہے۔ اس کے ساتھ ہی، ٹرمپ نے میکسیکو اور کینیڈا کے ساتھ الگ معاہدوں کے بعد ان ممالک پر ٹیرف کا نفاذ عارضی طور پر روک دیا ہے۔
چین نے ہمیشہ تجارتی جنگ کو اپنے لیے ایک چیلنج سمجھا ہے، اور سنہ 2018 میں بھی جب ٹرمپ نے چینی مصنوعات پر محصولات عائد کیے تھے تو چین کا کہنا تھا کہ وہ اس صورتحال سے خوفزدہ نہیں ہے۔ تاہم، اب چین نے امریکہ سے مذاکرات کے ذریعے مسائل حل کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق، رواں ہفتے ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ متوقع ہے۔
چین کی معیشت اب پہلے کی طرح امریکی مارکیٹ پر انحصار نہیں کرتی۔ حالیہ برسوں میں چین نے افریقہ، جنوبی امریکہ اور جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کے ساتھ تجارتی روابط کو مضبوط کیا ہے، اور اب وہ دنیا بھر کے 120 ممالک کا سب سے بڑا تجارتی پارٹنر ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکہ کی جانب سے عائد کردہ 10 فیصد اضافی ٹیکس چین کے لیے کوئی بڑا نقصان نہیں لائے گا۔ چونگ جا ایان، جو کہ کارنیگی چائنہ سے منسلک ہیں، نے کہا کہ “چین شاید سوچتا ہے کہ وہ اس نقصان کو برداشت کر سکتا ہے۔”
ایک طرف جہاں ٹرمپ کی پالیسیوں نے چین کو اپنے مفادات کے تحفظ کا موقع دیا ہے، وہیں دوسری طرف یہ صورتحال امریکہ کی عالمی حیثیت کو متاثر کر سکتی ہے۔ ٹرمپ کی “امریکہ پہلے” کی پالیسی نے عالمی سطح پر امریکہ کی قیادت میں کمزوری پیدا کی ہے، اور اس کا فائدہ چین اٹھانے کی کوشش کر رہا ہے۔
شی جن پنگ نے اپنی قیادت میں چین کی عالمی سطح پر اثر و رسوخ بڑھانے کی کوششیں جاری رکھی ہیں، اور انہیں امید ہے کہ امریکہ کے عالمی ادارہ صحت سے انخلا کے بعد چین ایک نئے عالمی نظام کی قیادت میں اپنا کردار ادا کر سکتا ہے۔
چین نے حال ہی میں عالمی ادارہ صحت کے لیے اضافی فنڈز کا اعلان کیا، اور یہ امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ وہ عالمی برادری کو اپنی جانب راغب کرنے کی کوشش کرے گا۔
چین کی وزارت تجارت نے امریکی محصولات کے خلاف قانونی چارہ جوئی کا اعلان کیا ہے، لیکن یہ واضح ہے کہ ٹرمپ کی حکومت کی جانب سے عائد کردہ ٹیکس کی وجہ سے چین کی مشکلات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اس کے باوجود، چین اپنی معیشت کو مستحکم رکھنے اور عالمی سطح پر اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کی کوششیں جاری رکھے گا۔
