8 مئی 1981 کو سنیل کمار گپتا نامی نوجوان افسر اپنا تقرری لیٹر لے کر تہاڑ جیل کے سپرنٹنڈنٹ بی ایل وج کے دفتر پہنچے۔ انھوں نے ریلوے کی نوکری چھوڑ کر جیل کے محکمے میں شمولیت اختیار کی تھی، اور اس وقت ان کی عمر صرف 24 سال تھی۔ تاہم، جیل سپرنٹنڈنٹ نے انھیں بتایا کہ اے ایس پی کی کوئی خالی پوسٹ نہیں ہے۔ سنیل گپتا اس جواب سے حیران رہ گئے اور سوچنے لگے کہ اب کیا کریں۔
اس دوران ان کی نظر ایک متاثر کن شخصیت پر پڑی، جو کوٹ اور ٹائی پہنے ہوئے تھے۔ سنیل گپتا نے ان سے اپنی پریشانی کا ذکر کیا، جس پر اس شخص نے کہا، “فکر مت کرو، میں تمہاری مدد کروں گا۔” یہ کہہ کر وہ جیل سپرنٹنڈنٹ کے دفتر میں داخل ہو گئے۔ ایک گھنٹے بعد وہ ایک خط لے کر باہر آئے، جس میں سنیل گپتا کو تہاڑ جیل میں اے ایس پی مقرر کرنے کا حکم درج تھا۔ سنیل گپتا کو بعد میں پتہ چلا کہ یہ شخص چارلس سوبھراج تھا، جو تہاڑ جیل میں ’سُپر آئی جی‘ کے نام سے مشہور تھا۔
چارلس سوبھراج، جو 1944 میں ویتنام کے شہر سائگون میں پیدا ہوئے، ایک ہندوستانی سندھی باپ اور ویتنامی ماں کے بیٹے تھے۔ ان کا بچپن ناخوشگوار گزرا، اور جوانی میں انھیں پیرس میں چوری کے الزام میں گرفتار کیا گیا۔ 1971 میں انھیں ہندوستان میں پہلی بار گرفتار کیا گیا، جب انھوں نے دہلی کے اشوکا ہوٹل کی جیولری شاپ سے قیمتی جواہرات چرائے تھے۔ اس واردات کے دوران انھوں نے ہوٹل کے ملازم کو نشہ آور دوا پلا کر بے ہوش کر دیا تھا۔
چارلس سوبھراج کو 1976 میں دوبارہ گرفتار کیا گیا، جب انھوں نے دہلی کے وکرم ہوٹل میں فرانسیسی سیاحوں کو نشہ آور دوا پلانے کی کوشش کی۔ اس بار انھیں تہاڑ جیل بھیج دیا گیا، جہاں انھوں نے جلد ہی اپنی سلطنت قائم کر لی۔ وہ جیل کے انتظامی دفاتر میں بیٹھتے تھے، اور ان کے پاس جیل افسران کی رشوت طلبی کی ریکارڈنگز بھی تھیں۔ انھیں جیل میں ایک سٹوڈیو اپارٹمنٹ جیسی سہولیات فراہم کی گئی تھیں، جہاں وہ قیدیوں اور جیل کے عملے کے لیے درخواستیں لکھتے تھے۔
16 مارچ 1986 کو چارلس سوبھراج تہاڑ جیل سے فرار ہو گئے۔ انھوں نے جیل کے عملے کو نشہ آور دوا سے بھری مٹھائی کھلا کر بے ہوش کر دیا تھا۔ اس واقعے کے بعد انھیں گوا کے ایک ریستوران سے گرفتار کیا گیا، جہاں وہ اپنے دوست ڈیوڈ ہال کے ساتھ موجود تھے۔ چارلس کو دوبارہ تہاڑ جیل بھیج دیا گیا، جہاں ان کی تمام سہولیات ختم کر دی گئیں۔
1997 میں تہاڑ جیل سے رہا ہونے کے بعد بھی چارلس سوبھراج کی مشکلات ختم نہیں ہوئیں۔ 2003 میں انھیں نیپال میں گرفتار کیا گیا، جہاں وہ 19 سال تک قید رہے۔ 21 دسمبر 2022 کو نیپال کی سپریم کورٹ نے انھیں رہا کر دیا، اور وہ فرانس چلے گئے، جہاں وہ اب بھی مقیم ہیں۔
چارلس سوبھراج کی کہانی ایک ایسے شخص کی داستان ہے جس نے جیل کے اندر بھی اپنی طاقت اور اثر و رسوخ کو برقرار رکھا۔ ان کی زندگی کے مختلف پہلوؤں نے انھیں ہندوستان کی تاریخ کا ایک اہم کردار بنا دیا ہے۔
