پاکستانی اداکار دودی خان نے بھارتی اداکارہ راکھی ساونت کے ساتھ شادی کرنے سے انکار کر دیا ہے، جس کے بعد معروف عالم دین مفتی قوی نے راکھی سے شادی کے لیے مشروط طور پر آمادگی ظاہر کی ہے۔ ایک حالیہ پوڈکاسٹ میں خاتون میزبان نے راکھی ساونت کے حوالے سے سوال کیا کہ وہ کسی پاکستانی مولوی سے شادی کرنا چاہتی ہیں، جس پر مفتی قوی نے کہا کہ وہ اس معاملے میں تیار ہیں، تاہم انہوں نے یہ بھی شرط رکھی کہ پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ کیا راکھی کسی کے نکاح میں تو نہیں ہیں۔
مفتی قوی نے مزید کہا کہ ان کی والدہ کی اجازت کے بغیر وہ اس نکاح کا اقدام نہیں کریں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ان کی والدہ نے انہیں یہ ہدایت کی ہے کہ کسی بھی نکاح کے معاملے میں ان سے مشورہ کرنا ضروری ہے اور انہیں اپنی نکاح کی تعداد کسی کو نہیں بتانی چاہیے۔
راکھی ساونت، جو تنازعات کی وجہ سے اکثر خبروں میں رہتی ہیں، نے حال ہی میں پاکستان میں شادی کا اعلان کیا تھا۔ بھارتی اخبار “ٹائمز آف انڈیا” سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انہیں پاکستان کے دورے کے دوران شادی کے کئی پروپوزل ملے، لیکن انہوں نے دودی خان کو منتخب کیا۔
دودی خان نے اپنے ویڈیو بیان میں کہا کہ انہوں نے راکھی کو اس لیے پروپوز کیا کیونکہ وہ انہیں اچھی طرح جانتے تھے اور ان کی زندگی کے اتار چڑھاؤ کو سمجھتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ راکھی نے اسلام قبول کیا، عمرے پر گئی اور اپنا نام فاطمہ رکھ لیا، جس سے انہیں متاثر ہوا۔ تاہم، انہوں نے یہ بھی کہا کہ ان کا پروپوزل لوگوں کے لیے قابل قبول نہیں تھا اور انہوں نے عوامی ردعمل کی بنا پر شادی سے انکار کر دیا۔
دودی خان نے راکھی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان کی اچھی دوست رہیں گی اور اگرچہ وہ ان کی دلہن نہیں بن سکیں گی، لیکن وہ وعدہ کرتے ہیں کہ وہ انہیں پاکستان کی بہو بنائیں گے۔
یہ واقعہ سوشل میڈیا پر بھی کافی زیر بحث رہا، جہاں مختلف صارفین نے دودی خان کے فیصلے پر تبصرے کیے اور انہیں تنقید کا نشانہ بنایا۔
