ہسپانیہ کی حکومت نے 29 اکتوبر کو والنسیا میں آنے والے مہلک سیلاب کے نتیجے میں متاثر ہونے والے غیر قانونی تارکین وطن کی باقاعدگی کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سیلاب کے نتیجے میں 232 افراد ہلاک ہوئے تھے، اور حکومت نے متاثرہ افراد کی انتہائی کمزور حالت کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ اقدام کیا ہے۔
یہ فیصلہ وزارتی کونسل کے اجلاس میں منظور کیا گیا، جس کا مقصد ان غیر ملکیوں کی قانونی حیثیت کو یقینی بنانا ہے جو ان سیلاب زدہ علاقوں میں رہائش پذیر تھے۔ وزارت شمولیت اور مہاجرت کے مطابق، یہ اقدام ان افراد کو ایک سال کے لیے “خصوصی حالات کے تحت رہائشی اجازت نامے” فراہم کرے گا، جو انہیں ہسپانیہ میں رہائش اور کام کرنے کی اجازت دے گا۔
اس کے علاوہ، سیلاب کے نتیجے میں ہلاک ہونے والے غیر ملکیوں کے قریبی رشتے داروں کے لیے رہائشی اجازت نامے کی مدت پانچ سال تک بڑھائی جائے گی۔ جب یہ اجازت نامے ختم ہوں گے تو مستفید افراد روایتی طریقے سے تجدید کی درخواست دے سکیں گے۔
وزارت کے مطابق، ان اقدامات سے تقریباً 25,000 افراد مستفید ہوں گے۔ مزید برآں، وزارتی اجلاس میں ان علاقوں کے غیر ملکیوں کے رہائشی اجازت ناموں کی خودکار تجدید کا بھی فیصلہ کیا گیا، جس کا انکار صرف عوامی نظم و ضبط اور سلامتی کی وجوہات کی بنا پر کیا جا سکے گا۔
یہ اعلان والنسیا کے تعمیر نو کے ذمہ دار جنرل فرانسسکو خوسے گان پامپولس نے خوش آئند قرار دیا، جنہوں نے کہا کہ متاثرہ علاقوں میں کام کرنے والی کمپنیوں کو مزدوروں کی کمی کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ “اگر یہ لوگ اس علاقے میں ضروری کاموں میں مشغول ہونے کے قابل ہیں تو وہ خوش آمدید ہیں۔”
وزیر اعظم پیڈرو سانچیز نے ہسپانیہ میں آبادی کی بڑھتی ہوئی عمر کے پیش نظر مہاجرت کے حوالے سے مثبت نقطہ نظر اپنایا ہے، جو کہ یورپ کے بیشتر ممالک کے برعکس ہے۔ یہ نقطہ نظر حکومت کو آئندہ تین سالوں میں دسیوں ہزار تارکین وطن کو باقاعدہ کرنے کے لیے نئی ضوابط اپنانے کی راہ پر لے جا رہا ہے۔
