ماسکو: روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ایک اہم ٹیلیفونک گفتگو کے دوران یوکرین کے تنازعے کا پائیدار حل تلاش کرنے کے لیے امن مذاکرات کی پیشکش کی ہے، جیسا کہ کریملن نے بدھ کے روز اعلان کیا۔ پیوٹن نے تنازعے کی بنیادی وجوہات کو حل کرنے کی ضرورت پر زور دیا، جبکہ ٹرمپ نے اس گفتگو کو “طویل اور بہت ہی نتیجہ خیز” قرار دیا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی سے گفتگو کی، جس میں زیلنسکی نے یوکرین میں امن کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا۔ اس دوران واشنگٹن نے یورپ کو خبردار کیا کہ مستقبل میں یوکرین کو دی جانے والی امداد کی بڑی ذمہ داری یورپ پر ہوگی۔ امریکی سیکریٹری دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے برسلز میں نیٹو اجلاس کے دوران کہا کہ امریکہ نیٹو کے ساتھ وابستہ ہے، لیکن اس کے تعلقات میں عدم توازن کو مزید برداشت نہیں کرے گا۔
جرمن حکومت کے ترجمان نے برلن میں کہا کہ انہیں میونخ کانفرنس میں کسی بڑی پیشرفت کی توقع نہیں ہے، جہاں زیلنسکی امریکی نائب صدر جے ڈی وینس سے ملاقات کریں گے۔ ادھر، روس اور یوکرین نے زاپوریژیا کے قریب حملوں کے الزامات لگائے ہیں، جس کی وجہ سے وہاں ایٹمی توانائی کے بین الاقوامی ادارے کے عملے کی تبدیلی میں رکاوٹ پیدا ہوئی۔
یوکرین کی سیکیورٹی سروس نے ایک روسی جاسوس کی گرفتاری کا بھی اعلان کیا ہے، جو 2018 میں ویانا میں روسی سیکیورٹی اداروں کے لیے بھرتی ہوا تھا۔ اس جاسوس نے مبینہ طور پر 2024 کے آخر تک کوئی جاسوسی سرگرمی نہیں کی تھی۔
