حال ہی میں سامنے آنے والی رپورٹ کے مطابق، سن 2023 میں تشخیص کیے گئے چھاتی کے کینسر کے 14 فیصد کیسز 40 سے 50 سال کی خواتین میں پائے گئے ہیں۔ اس تشویشناک صورتحال کے پیش نظر، فرانس کی ہائی ہیلتھ اتھارٹی نے تجویز دی ہے کہ چھاتی کے کینسر کی ابتدائی سکریننگ چالیس سال کی عمر سے شروع کی جانی چاہیے۔
کئی خواتین، سکریننگ کے عمل سے خوفزدہ ہو کر اپنی پہلی میموگرافی کو ملتوی کر دیتی ہیں۔ ایک خاتون نے اپنے تجربے کو بیان کرتے ہوئے کہا، “جب مشین دباؤ ڈالتی ہے تو یہ سوچ کر ڈرتی ہوں کہ شاید تکلیف ہو، لیکن یہ قابل برداشت ہے۔” اکثر اوقات، سکریننگ کا عمل تاخیر کا شکار ہو جاتا ہے، جس سے بیماری کی تشخیص میں دیر ہو سکتی ہے۔ اس مسئلے کو مدنظر رکھتے ہوئے، اتھارٹی نے اس عمر میں کمی کی تجویز پیش کی ہے۔
مرض کی جلد تشخیص کے فوائد
کچھ طبی ماہرین اس تجویز کے بارے میں محتاط ہیں کیونکہ کبھی کبھار تشخیص کی گئی علامات غیر سنگین ہوتی ہیں اور ریڈیولوجی کے دوران استعمال ہونے والی ایکس ریز کینسر کے خطرات بڑھا سکتی ہیں۔ تاہم، کچھ ڈاکٹروں کا ماننا ہے کہ جلد تشخیص سے علاج کی کامیابی کی شرح بہتر ہوتی ہے۔ سینٹر آف سونوگرافی اینڈ میموگرافی پیرس کے ڈاکٹر پیٹرک توبیانا کا کہنا ہے کہ “جب ہم 48 یا 50 سال کی خاتون میں چھاتی کا کینسر پاتے ہیں، تو ہمیں احساس ہوتا ہے کہ شاید ہم اسے چند سال قبل بھی پکڑ سکتے تھے۔”
یہ تجویز صحت کے شعبے میں ایک مثبت قدم ہوسکتی ہے، لیکن اس کے ساتھ اس کے ممکنہ اثرات پر بھی غور کرنا ضروری ہے۔ تحقیق اور احتیاط کے ساتھ، خواتین کی صحت میں بہتری کی جا سکتی ہے۔
یہ موضوع صحت اور بیماریوں کے حوالے سے عوام میں آگاہی پیدا کرنے کا ایک اہم ذریعہ بن سکتا ہے۔ متوازن اور معلوماتی اقدامات سے چھاتی کے کینسر کی جلد تشخیص اور کامیاب علاج کی جانب مزید پیش رفت ممکن ہے۔
