واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکہ نے پاکستان اور بھارت کے درمیان ممکنہ جوہری جنگ کو روکا۔ انہوں نے یہ بات ایک انٹرویو میں کہی جسے فاکس نیوز نے 16 مئی کو نشر کیا۔ ٹرمپ نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی اس حد تک بڑھ گئی تھی کہ جنگ کے خطرات منڈلا رہے تھے۔
بھارت نے پاکستان پر مقبوضہ کشمیر کے پہلگام میں حملے کا الزام لگایا تھا جس کے بعد بھارت نے 6 اور 7 مئی کی رات کو پنجاب اور آزاد کشمیر میں فضائی حملے کیے۔ ان حملوں میں شہری ہلاکتیں ہوئیں جس پر پاکستان نے جواباً پانچ بھارتی طیارے مار گرائے۔ دونوں ممالک کے درمیان ڈرون حملوں اور ایک دوسرے کے اڈوں پر حملوں کے بعد امریکہ کی مداخلت پر دونوں ممالک نے جنگ بندی کا اعلان کیا۔
ٹرمپ نے کہا کہ یہ ان کی سب سے بڑی کامیابیوں میں سے ایک ہے جس کا انہیں کبھی مکمل کریڈٹ نہیں ملے گا۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک جوہری طاقتیں ہیں اور بہت غصے میں تھے، اور اگر یہ سلسلہ جاری رہتا تو جوہری جنگ کا خطرہ تھا۔
امریکی صدر نے مزید کہا کہ انہوں نے پاکستان اور بھارت دونوں کے ساتھ تجارت پر بات چیت کی ہے اور اسے امن کے قیام کے لئے استعمال کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے ساتھ ان کے عمدہ تعلقات ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ پاکستان امریکہ کے ساتھ مزید تجارت کرے۔ ٹرمپ نے یقین دلایا کہ امریکہ اور بھارت کے درمیان بھی تجارتی تعلقات کو مزید مضبوط بنایا جائے گا۔
امریکہ کی سربراہی میں ہونے والی جنگ بندی کے بعد پاکستان اور بھارت کے درمیان ایک ہفتے کی شدید کشیدگی ختم ہوئی۔ اس دوران بھارت کے حملوں میں پاکستان کے 13 فوجی اہلکار شہید اور 75 سے زائد زخمی ہوئے جبکہ 40 شہری ہلاک ہوئے۔
ادھر برطانیہ کے وزیر خارجہ ڈیوڈ لامی نے اسلام آباد میں کہا کہ برطانیہ امریکہ کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے تاکہ پاک بھارت جنگ بندی کو برقرار رکھا جا سکے اور دونوں ممالک کے درمیان اعتماد سازی کی کوششیں کی جائیں۔
پاکستان نے کہا ہے کہ برطانیہ سمیت دیگر ممالک نے بھی جنگ بندی کے عمل میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ تاہم، تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ موجودہ جنگ بندی ابھی بھی نازک ہے اور دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کی بحالی کے لئے مزید اقدامات کی ضرورت ہے۔
