ابوظہبی: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ دورہ خلیج کے دوران، انہیں ابو ظہبی میں اماراتی صدر شیخ محمد بن زاید نے خوش آمدید کہا۔ استقبال کے دوران بچوں نے امارات اور امریکہ کے جھنڈے لہرائے اور لڑکیوں نے ایک روایتی رقص پیش کیا جس میں انہوں نے اپنے سر کو دائیں بائیں ہلا کر اپنے بالوں کو “رقص” کرایا۔
اس تقریب کو عالمی سطح پر دیکھا گیا، خاص طور پر وہ لوگ جو امارات کی ثقافت سے ناواقف تھے، انہوں نے اس رقص پر توجہ مرکوز کی۔ کچھ لوگ اس رقص کی اہمیت کو سمجھ نہیں پائے اور سوشل میڈیا پر سوالات اٹھائے گئے کہ اس رقص کا کیا مطلب ہے۔
یہ روایتی رقص، جسے “آل آیا” کہا جاتا ہے، امارات اور شمال مغربی عمان کی ثقافتی ورثہ کا حصہ ہے اور اسے یونیسکو کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔ اس رقص کی تاریخ 400 سال پرانی ہے اور یہ بہادری، اتحاد اور اجتماعی جذبے کی علامت ہے۔
آل آیا رقص کی شروعات بدو قبائل کی جنگی منظرنامے کی تمثیل سے ہوئی تھی جہاں مردوں کی دو قطاریں ایک دوسرے کے سامنے کھڑی ہوتی ہیں، بانس کی چھڑیاں تھامے ہوئے جو نیزوں یا تلواروں کی نمائندگی کرتی ہیں۔ اس کے ساتھ موسیقار بڑے اور چھوٹے ڈھول، تمبورین اور پیتل کی جھانج بجا رہے ہوتے ہیں۔
امارات میں، لڑکیاں روایتی لباس پہنتی ہیں اور اپنے لمبے بالوں کو دائیں بائیں جھلاتی ہیں۔ یہ رقص بہادری، وقار اور عزت کی نمائندگی کرتا ہے۔ سوشل میڈیا پر اس رقص کو “بت پرستی” یا “پریشان کن” کہنا اماراتی ثقافت کے بارے میں عدم واقفیت کی نشاندہی کرتا ہے۔
کسی بھی ثقافتی عمل کو اس کی اپنی سیاق و سباق میں سمجھنے کی ضرورت ہوتی ہے نہ کہ توڑ مروڑ کر یا دشمنی کے عینک سے دیکھا جائے۔ ثقافت اور ایمان اکثر جڑے ہوتے ہیں، لیکن ورثے کا جشن منانا ایمان کو کم نہیں کرتا۔
یہ تنقید اس بات کی جانب بھی اشارہ کرتی ہے کہ اگر یہ مردوں کا رقص ہوتا تو شاید اعتراضات اتنے بلند نہ ہوتے۔ جب خواتین اپنے بالوں کو موسیقی کے ساتھ جھلاتی ہیں تو یہ اچانک متنازعہ بن جاتا ہے۔
ثقافتی ورثے کی اہمیت کو سمجھنا اور اس کا احترام کرنا ضروری ہے، خاص طور پر جب وہ کسی قوم کی شناخت اور اتحاد کی نمائندگی کرتا ہو۔
