ڈاکٹر اسحاق سمیجو کی نظم ‘جگ جگ جیندو رہندو، سندھو واہندو رہندو’ سندھ اور دریائے سندھ کے لیے محبت کا اظہار کرتی ہے، جسے گیت کی شکل میں ڈھالا گیا ہے۔ یہ گیت سندھ کے عوام کے حقوق کی جدوجہد میں اہم کردار ادا کر رہا ہے، جو اس وقت دریائے سندھ کے پانی کے حقوق کے تحفظ کے لیے ایک تحریک کی صورت اختیار کر چکا ہے۔
سندھ میں موسیقی ہمیشہ سے سماجی تبدیلیوں اور تحریکوں کا محرک رہی ہے۔ 1954 میں ایک یونٹ کے خلاف تحریک کے دوران شیخ ایاز کی نظم ‘سہندو کر مایار او یار سندری تے سر کر نہ دینو’ نے عوامی جدوجہد کو مہمیز کیا۔ 80 کی دہائی میں جنرل ضیاء کے خلاف جمہوریت کی بحالی کی تحریک میں آیات، استاد بخاری، اور دیگر شعرا نے نوجوانوں کو متاثر کیا۔
آج سندھ ایک بار پھر سڑکوں پر ہے، اس بار احتجاج کی وجہ زرعی پانی کی قلت اور گرین پاکستان انیشیٹو کے تحت چھ نہروں کی تجویز ہے، جسے صوبے میں پانی کی کمی کے خدشے کے باعث شدید مخالفت کا سامنا ہے۔ اس منصوبے کے خلاف سندھ اسمبلی میں قرارداد منظور کی گئی ہے، جس میں نہروں کی تعمیر کے منصوبوں کو فوری بند کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
اس دوران سانم ماروی کا گیت ‘جگ جگ جیندو رہندو، سندھو واہندو رہندو’ تحریک کے لیے ایک ترانہ بن چکا ہے، جس نے لوگوں کو یکجا کر دیا ہے۔ گیت کی مقبولیت نے اس کے تخلیق کاروں کی توقعات کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔
ویڈیو گرافر فدا حسین بگھت کے مطابق، چار ماہ قبل انہیں ڈاکٹر سمیجو نے اس نظم کو گیت میں ڈھالنے کا کہا، جس میں سانم ماروی کی آواز شامل کی گئی۔ ماروی نے اس گیت کو گانے پر فخر کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ ان کی زندگی کا ایک اہم سنگ میل ہے۔
گیت کی ویڈیو میں سندھ کی تہذیب و ثقافت کو اجاگر کیا گیا ہے، جس میں کسان، ماہی گیر، اور سندھ کی سرسبز وادیوں کے مناظر دکھائے گئے ہیں۔ اس گیت نے سندھ کے لوگوں میں ایک نئی روح پھونک دی ہے، جو مختلف تقاریب اور احتجاجی مظاہروں میں بجایا جا رہا ہے۔
سندھ ثقافت کے نمائندے زبیر جعفرانی کے مطابق، یہ گیت سندھ کے مختلف اسکولوں میں صبح کی اسمبلی میں گایا جا رہا ہے، جس کے ذریعے طلباء کو سندھ میں جاری پانی کے بحران کے بارے میں آگاہ کیا جا رہا ہے۔
یہ گیت نہ صرف سندھ کی تاریخ کا حصہ بن چکا ہے بلکہ اس نے صوبے کے لوگوں کو ایک نئی توانائی فراہم کی ہے۔
