حالیہ دنوں میں بھارت اور پاکستان کے درمیان کشمیر کے علاقے میں شدید کشیدگی دیکھی گئی ہے۔ 6 اور 7 مئی کی درمیانی شب بھارت نے “سندور” نامی فضائی آپریشن کا آغاز کیا، جس میں پاکستانی فوجی ڈھانچوں پر وسیع پیمانے پر بمباری کی گئی۔ اس کے جواب میں پاکستان نے اپنے جنگی طیارے بھارتی سرحد کی طرف روانہ کیے اور دعویٰ کیا کہ اس نے بھارت کے پانچ طیارے مار گرائے، جن میں تین جدید رافیل طیارے بھی شامل ہیں۔ پاکستان کے مطابق، اس کامیابی کی وجہ چینی ساختہ جنگی طیارہ جے-10 سی اور پی ایل-15 میزائل ہیں۔
جے-10 سی ایک جدید چوتھی نسل کا جنگی طیارہ ہے، جو فعال الیکٹرانک سکیننگ ریڈار اور کم نمایاں ہونے کی خصوصیات کے ساتھ لیس ہے۔ اس کی خاص بات طویل فاصلے تک پی ایل-15 میزائل لے جانے اور داغنے کی صلاحیت ہے، جو خودکار نظام کے تحت دوران پرواز اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس جدید فوجی ٹیکنالوجی کا تعلق چین سے ہے، جو عالمی سطح پر اپنی فوجی قوت میں اضافہ کر رہا ہے۔
چین کی وزارت خارجہ نے بھارت اور پاکستان سے فوری طور پر صورتحال کو مزید خراب نہ کرنے کی اپیل کی ہے، جبکہ دوسری جانب چین کشمیر میں پاکستانی موقف کی مسلسل حمایت کرتا رہا ہے۔ چین پاکستان کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے اور دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعلقات دن بہ دن مضبوط ہو رہے ہیں۔
چین کی فوجی طاقت میں اضافہ نیٹو ممالک کے لیے ایک لمحہ فکریہ ہے۔ چین اب دنیا کا دوسرا سب سے بڑا دفاعی بجٹ رکھتا ہے، جس نے 2024 میں 314 ارب ڈالر اپنی دفاعی ضروریات پر خرچ کیے ہیں۔ چین کی فوجی طاقت میں اضافہ اس کی اقتصادی کامیابیوں کے بعد فطری طور پر متوقع تھا۔ چین نے اپنی فوجی قوت کو بڑھانے کے لیے جدید جنگی ٹیکنالوجی کو اپنانا شروع کر دیا ہے، جس میں جدید ترین جنگی طیارے، ڈرونز، اور بحری جہاز شامل ہیں۔
چین کی فوجی حکمت عملی میں تائیوان بھی شامل ہے، جسے وہ 2049 تک اپنے زیر کنٹرول لانے کا ارادہ رکھتا ہے۔ اس مقصد کے لیے چین نے اپنی فوجی تیاریوں میں اضافہ کیا ہے، جن میں بڑی سطح پر سمندری اور فضائی مشقیں شامل ہیں۔ عالمی ماہرین کا کہنا ہے کہ چین کی فوجی طاقت کو اب ہلکا نہیں لیا جا سکتا اور نیٹو ممالک کو چین کی بڑھتی ہوئی فوجی طاقت کے پیش نظر محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔
