ایک نئی طبی تحقیق میں معدے اور دماغ کے درمیان موجود پراسرار تعلقات کو اجاگر کیا گیا ہے، جو جسمانی وزن اور انزائٹی کے درمیان ممکنہ تعلق کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ تحقیق امریکا کی جارجیا اسٹیٹ یونیورسٹی میں کی گئی، جہاں محققین نے چوہوں پر تجربات کر کے غذاؤں سے جڑے موٹاپے اور انزائٹی جیسی علامات کے درمیان تعلق کو دریافت کیا۔
تحقیق کے مطابق، جسمانی وزن میں اضافے سے معدے میں موجود بیکٹیریا میں تبدیلیاں آتی ہیں، جس کا دماغی افعال پر منفی اثر پڑتا ہے۔ محققین نے بتایا کہ اس سے قبل بھی موٹاپے کے مختلف امراض جیسے ذیابیطس ٹائپ 2 اور امراض قلب کے خطرات میں اضافے کا پتہ چلا ہے، مگر جسمانی وزن اور دماغی صحت کے درمیان تعلق زیادہ واضح نہیں تھا۔
محققین نے اس تحقیق کے لیے 32 چوہوں کو شامل کیا جنہیں دو گروہوں میں تقسیم کیا گیا۔ ایک گروپ کو زیادہ چکنائی والی غذا دی گئی، جس سے ان کے جسمانی وزن میں نمایاں اضافہ ہوا۔ اس کے برعکس، موٹاپے کے شکار چوہوں نے انزائٹی سے متعلق رویوں کا اظہار زیادہ کیا جبکہ پتلے چوہوں میں یہ علامات نہیں دیکھی گئیں۔
تحقیق میں یہ بھی معلوم ہوا کہ موٹاپے کے شکار چوہوں کے دماغی خطوں میں، جو میٹابولزم کو کنٹرول کرنے کے ذمہ دار ہیں، افعال میں نمایاں فرق دیکھا گیا۔ معدے کے بیکٹیریا کے اجتماع میں بھی فرق پایا گیا، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ معدے کے بیکٹیریا رویوں کو کنٹرول کرنے میں کردار ادا کرتے ہیں۔
محققین نے زور دیا کہ اگرچہ غذا دماغی صحت پر نمایاں اثر ڈالتی ہے، مگر یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ ماحول، جینز، طرز زندگی کے انتخاب اور سماجی و معاشی حیثیت بھی ان معاملات میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس موضوع پر مزید تحقیق کی ضرورت ہے تاکہ موٹاپے اور دماغی مسائل کے درمیان تعلق کو بہتر طور پر سمجھا جا سکے۔
تحقیق کے نتائج امریکن سوسائٹی آف نیوٹریشن کی سالانہ کانفرنس کے موقع پر پیش کیے گئے۔ محققین نے امید ظاہر کی کہ اس تحقیق سے مستقبل میں مزید گہرائیوں سے تحقیق کی جا سکے گی تاکہ موٹاپے اور دماغی صحت کے درمیان تعلق کی بہتر تفہیم حاصل ہو سکے۔
