نیٹو کے سیکریٹری جنرل مارک رٹے نے نیٹو کی دفاعی صلاحیت میں نمایاں اضافے کی ضرورت پر زور دیا ہے، جس میں روس سے بڑھتے ہوئے خطرات کے پیش نظر فضائی اور میزائل دفاع میں “چار سو فیصد اضافہ” شامل ہے۔ انہوں نے لندن میں چیتھم ہاؤس تھنک ٹینک سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یوکرین کے حالات نے یہ ظاہر کیا ہے کہ روس فضائی حملوں کے ذریعے خطرہ پیدا کر سکتا ہے، لہذا نیٹو کو اپنی فضائی دفاعی ڈھال کو مضبوط کرنا ہوگا۔
مارک رٹے نے مزید کہا کہ نیٹو کو قابل اعتماد دفاعی صلاحیت کو برقرار رکھنے کے لیے اپنی افواج اور دفاعی صلاحیتوں میں مجموعی طور پر اضافہ کرنا ہوگا۔ ان کے بقول، نیٹو کی افواج کو مزید بکتر بند گاڑیاں، ٹینک اور آرٹلری شیلز کی ضرورت ہے تاکہ روس کے ممکنہ خطرات کا موثر جواب دیا جا سکے۔
کریملن نے نیٹو کے ان منصوبوں پر تنقید کرتے ہوئے اسے یورپی شہریوں کے لیے مہنگا قرار دیا ہے۔ کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ نیٹو کا وجود براعظم میں استحکام کو برقرار رکھنے کے لیے نہیں، بلکہ تصادم کو ہوا دینے کے لیے ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یورپی ٹیکس دہندگان کو ایک عارضی خطرے کے خاتمے کے نام پر اپنے پیسے خرچ کرنا پڑیں گے، جسے روس سے خطرہ قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ صورتحال اس وقت سے مزید توجہ کا مرکز بن گئی ہے جب روس نے یوکرین میں اپنی فوجی کاروائیاں شروع کیں، جس نے نیٹو ممبران کو اپنی دفاعی حکمت عملیوں پر نظرثانی کرنے پر مجبور کیا ہے۔ نیٹو کے سربراہ نے تنبیہ کی ہے کہ یوکرین میں جنگ کے خاتمے کے بعد بھی خطرہ باقی رہ سکتا ہے، اس لیے نیٹو کو اپنی دفاعی تیاریوں میں مزید اضافہ کرنا ضروری ہے۔
