پاکستان کی اقتصادی ترقی کی رفتار: موجودہ مالی سال میں 2.7 فیصد کی توقع

اسلام آباد: پاکستانی وزارت خزانہ کی جانب سے جاری کردہ سالانہ اقتصادی جائزہ رپورٹ کے مطابق رواں مالی سال کے دوران پاکستان کی اقتصادی ترقی کی شرح 2.7 فیصد رہنے کی توقع ہے۔ یہ شرح گزشتہ مالی سال کی 2.5 فیصد ترقی سے قدرے بہتر ہے۔ رپورٹ کے مطابق حکومت نے ابتدائی طور پر 3.6 فیصد جی ڈی پی کی ترقی کا ہدف مقرر کیا تھا، تاہم حالیہ تبدیلیوں کے بعد اس ہدف کو کم کر کے 2.7 فیصد کر دیا گیا ہے۔

وزارت خزانہ نے یہ رپورٹ وفاقی بجٹ پیش کیے جانے سے ایک دن قبل جاری کی، جو کہ آج پیش کیا جائے گا۔ انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) نے بھی اپنی پیش گوئی میں مالی سال 2025 کے لیے 2.6 فیصد ترقی کی توقع ظاہر کی ہے، جبکہ آئندہ سال 2026 میں 3.6 فیصد ترقی کی امید کی جا رہی ہے۔

مرکزی بینک کی پالیسی اور معاشی اشاریے بھی اس رپورٹ کا حصہ ہیں، جس کے مطابق رواں مالی سال کے دوران پاکستان کے کرنٹ اکاؤنٹ میں 1.9 بلین ڈالر کا سرپلس ریکارڈ ہوا، جو کہ گزشتہ سال کے اسی عرصے میں 200 ملین ڈالر کے خسارے سے نمایاں بہتر ہے۔ حکومت کی مجموعی آمدن رواں مالی سال کے پہلی تین سہ ماہیوں میں 13.37 ٹریلین روپے رہی۔

وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے بتایا کہ مالی استحکام کی بدولت عالمی سطح پر پاکستان کی معیشت کو پذیرائی ملی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سرمایہ کاری کے موافق اصلاحات اور بچتی پروگراموں میں اضافے کے نتیجے میں پاکستان کی معیشت ترقی کی راہ پر گامزن ہے، جس کی بدولت درمیانی مدت میں جی ڈی پی کی شرح 5.7 فیصد تک پہنچنے کی توقع ہے۔

اقتصادی چیلنجز اور آئی ایم ایف پروگرام کے تحت مالیاتی اصلاحات کی سختی کے باوجود، حکومت کو مالی خسارے کو کم کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔ رپورٹ کے مطابق مالی خسارہ جی ڈی پی کا 2.6 فیصد ریکارڈ کیا گیا، جبکہ افراط زر کی شرح 4.6 فیصد رہی۔

کل پیش کیا جانے والا وفاقی بجٹ ان چیلنجز سے نمٹنے اور آئی ایم ایف کی شرائط کو پورا کرنے کے لیے حکومتی حکمت عملی کو واضح کرے گا۔ اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس اور کم افراط زر کے باوجود زرعی شعبے میں ترقی کی سست رفتاری نے سالانہ ترقی کے ہدف کو متاثر کیا ہے۔