اسپین کی قدامت پسند جماعت پیپلز پارٹی (پی پی) نے دارالحکومت میڈرڈ میں وزیر اعظم پیدرو سانچیز کی حکومت کے خلاف ایک بڑا احتجاجی مظاہرہ کیا ہے۔ حکومت پر کرپشن کے الزامات عائد کیے جا رہے ہیں، جن میں وزیر اعظم کی اہلیہ بھی مبینہ طور پر ملوث ہیں۔ حزب اختلاف کی اس ریلی میں ہزاروں شہریوں نے شرکت کی اور حکومت کے خلاف نعرے بازی کی۔
ریلی کا عنوان “مافیا یا جمہوریت” رکھا گیا تھا، جس میں مقامی حکام کے مطابق تقریباً پچاس ہزار افراد نے شرکت کی۔ مظاہرین نے اسپین کے سرخ اور پیلے رنگ کے پرچم بلند کیے اور پیدرو سانچیز سے استعفیٰ دینے کا مطالبہ کیا۔
میڈرڈ کے میئر خوزے لوئس مارٹینیز المائیڈا نے مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پیپلز پارٹی جلد از جلد مافیا کو اقتدار سے نکال کر جمہوریت کی بحالی چاہتی ہے۔ انہوں نے حکومت کو بدعنوانی اور ریاستی اداروں کو داغ دار کرنے کا ذمہ دار ٹھہرایا اور ملک میں جلد انتخابات کرانے کا مطالبہ کیا۔
وزیر اعظم سانچیز اور ان کے اتحادیوں پر ماضی میں بھی کرپشن کے الزامات لگ چکے ہیں، تاہم سانچیز ان الزامات کی تردید کرتے آئے ہیں۔ اپوزیشن رہنما البیرٹو نونیز فیئخو نے بھی حکومت پر “مافیا کے طرز عمل” کا الزام لگایا ہے اور جلد انتخابات کا مطالبہ کیا ہے، حالانکہ قومی انتخابات 2027 میں شیڈول ہیں۔
اس ریلی کے بعد حکومت کے ایک ترجمان نے مظاہرین کی تعداد پر طنز کیا اور کہا کہ میڈرڈ میں ایک موسیقی کے کنسرٹ میں اس سے زیادہ لوگ جمع ہوئے تھے۔ سانچیز نے کرپشن کے الزامات کو دائیں بازو کی جانب سے “بدنام کرنے کی مہم” قرار دیا اور انہیں مسترد کر دیا۔
حالیہ عوامی جائزے یہ ظاہر کرتے ہیں کہ پیپلز پارٹی کو موجودہ بائیں بازو کے اتحاد پر معمولی برتری حاصل ہے، جبکہ سانچیز اب بھی سب سے زیادہ مقبول رہنما ہیں۔
