آذربائیجان نے پاکستان سے JF-17 تھنڈر لڑاکا طیاروں کی ایک اور کھیپ خریدنے کا فیصلہ کیا ہے، جس کا مقصد اپنی فضائی قوت کو مزید مضبوط بنانا ہے۔ 6 جون کو پاکستانی حکومت نے سوشل میڈیا کے ذریعے اس معاہدے کی تصدیق کی، جس کے تحت آذربائیجان چالیس اضافی JF-17 تھنڈر طیارے حاصل کرے گا۔ اس معاہدے کی مالیت 4.5 بلین ڈالر ہے، جو آذربائیجان کی فوجی صلاحیتوں میں نمایاں اضافہ کرے گا۔
JF-17 تھنڈر طیارہ پاکستان اور چین کی مشترکہ کاوش سے تیار کیا گیا ہے، جس میں جدید ترین روسی RD-39 انجن استعمال ہوتا ہے، جو طیارے کو ماک 1.6 کی رفتار تک پہنچنے کی صلاحیت دیتا ہے۔ یہ طیارہ 3,800 کلوگرام تک ہتھیار لے جانے کی اہلیت رکھتا ہے اور جدید KLJ-7A ریڈار سے لیس ہے۔
آذربائیجان کی فضائیہ کے پاس موجودہ سوویت عہد کے طیاروں کی جگہ JF-17 طیاروں کو شامل نہیں کیا جائے گا بلکہ ان کی موجودہ طاقت کو مزید تقویت دینے کے لئے استعمال کیا جائے گا۔ یہ طیارے، جیسے کہ MiG-29 اور Su-25، پرانے ہیں اور جدید ایویانکس اور ہتھیاروں کی ضرورت محسوس کرتے ہیں۔
دوسری طرف، آرمینیا کی فضائیہ کی مشکلات کا سامنا ہے کیونکہ ان کے پاس صرف چار Su-30SM فلیکر اور چند Su-25 طیارے موجود ہیں۔
یہ معاہدہ آذربائیجان کی جانب سے تیل کی آمدنی کی بدولت اپنی فوجی صلاحیتوں کو بڑھانے کی کوششوں کا حصہ ہے، جس سے اس کی دفاعی قوت میں مزید اضافہ ہوگا۔ اس کے علاوہ، آذربائیجان نے حال ہی میں چین سے چالیس 5ویں جنریشن J-35A لڑاکا طیارے بھی خریدے ہیں، جس سے اس کے دفاعی نظام میں مزید بہتری آئے گی۔
