تل ابیب: اسرائیل اور ایران کے درمیان تازہ حملوں کے نتیجے میں ایک وسیع جنگ کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔ یہ کشیدگی اس وقت شروع ہوئی جب اسرائیل نے ایران کے سب سے بڑے گیس فیلڈ پر حملہ کیا۔ اسرائیل نے جمعہ کے روز ایران پر فضائی حملے شروع کیے، جن میں کمانڈروں اور سائنسدانوں کو ہلاک کیا گیا اور جوہری سائٹس کو نشانہ بنایا گیا۔ ایران نے کہا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے۔
ایران نے اپنا ردعمل دیتے ہوئے اسرائیل پر میزائل حملے کیے، جس کے نتیجے میں اسرائیل میں 10 افراد ہلاک اور 140 سے زائد زخمی ہوگئے۔ ایران نے اپنے جنوبی پارس گیس فیلڈ کی پیداوار بھی جزوی طور پر معطل کردی، جس کے بعد اسرائیل نے مزید حملے کیے۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ ایران اپنے دفاع میں کارروائی کر رہا ہے اور اگر اسرائیل کی جارحیت بند ہو تو ایران بھی اپنے جوابی حملوں کو روک دے گا۔ انہوں نے اسرائیل کی جانب سے گیس فیلڈ پر حملے کو ایک خطرناک اقدام قرار دیا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو خبردار کیا ہے کہ اگر وہ امریکہ پر حملہ کرتا ہے تو اسے غیر معمولی فوجی طاقت کا سامنا کرنا پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ ان حملوں میں ملوث نہیں ہے اور ایران اور اسرائیل کے درمیان امن معاہدے کے لیے تیار ہے۔
اسرائیل نے ایران کی جوہری تنصیبات پر حملے جاری رکھے ہوئے ہیں، جبکہ ایران نے اپنی میزائلوں کے ذریعے اسرائیل کو نشانہ بنایا ہے۔ اس صورتحال میں جرمنی، فرانس اور برطانیہ نے ایران کے ساتھ فوری مذاکرات کی پیشکش کی ہے تاکہ مشرق وسطی کی کشیدگی کو کم کیا جا سکے۔
یہ کشیدگی اس وقت مزید بڑھ گئی جب ایران نے کہا کہ وہ خطے میں اپنے حملے مزید وسیع کرے گا اگر اسرائیل اپنی جارحیت جاری رکھتا ہے۔ ایران کے پاسداران انقلاب نے اسرائیل کے اہم اہداف کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔
یمن کے حوثیوں نے بھی اسرائیل پر حملے کرنے کا اعلان کیا ہے، جس سے خطے میں تنازعہ مزید شدید ہوگیا ہے۔ اسرائیل نے ایران کے خلاف اپنی کارروائیوں کو جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے، جبکہ ایران نے مزید حملوں کی دھمکی دی ہے۔
دریں اثنا، عالمی رہنما اس صورتحال کو حل کرنے کے لیے مذاکرات کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن کشیدگی اب بھی برقرار ہے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ اس تنازعہ کا حل جلد ہی نکالا جائے گا تاکہ خطے میں امن قائم ہو سکے۔
