ایران اور اسرائیل کے درمیان تنازعہ ہفتے کے روز دوسرے دن بھی جاری رہا، جب تل ابیب کی جانب سے جمعے کو اسلامی جمہوریہ پر اشتعال انگیز حملے کیے گئے۔ اس صورتحال نے دنیا بھر میں امن کی بحالی کے امکانات کو مزید دھندلا دیا ہے۔
جمعے کو اسرائیل نے ایران کے متعدد مقامات کو نشانہ بنایا اور کئی سینئر ایرانی فوجی رہنماؤں اور سائنسدانوں کو ہلاک کردیا۔ جواباً، ایران نے بھی اسرائیل کی جانب ڈرون اور میزائل حملے کیے۔ اس تنازعے کے بڑھنے کا خطرہ ہے، خاص طور پر اگر امریکہ نے مداخلت کی تو یہ پورے خطے کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے اور اس کے اثرات عالمی سطح پر محسوس کیے جائیں گے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق، امریکہ نے حملے سے قبل اسرائیل کو سیکڑوں میزائل فراہم کیے تھے، جبکہ کچھ اشارے یہ بھی دیتے ہیں کہ امریکی افواج نے اسرائیل کی جانب آنے والے ایرانی میزائلوں کو مار گرایا۔ تہران نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ، برطانیہ یا فرانس کی افواج نے تل ابیب کا دفاع کیا تو وہ ان ممالک کے اڈوں کو نشانہ بنائے گا۔
اس کشیدہ صورتحال کے دوران، صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر یہ سوال اٹھتا ہے کہ انہوں نے اسرائیل کو ایران پر حملہ کرنے سے روکنے کے لیے مزید کیوں نہیں کیا۔ تل ابیب کی ‘پیشگی حملوں’ کی منطق کہ وہ ایران کو جوہری بم حاصل کرنے سے روک رہا ہے، مشکوک نظر آتی ہے، خاص طور پر جب خود اسرائیل کے بارے میں یہ خیال کیا جاتا ہے کہ اس کے پاس خفیہ جوہری پروگرام موجود ہے۔
صدر ٹرمپ نے خود کو ‘امن کا داعی’ قرار دیا تھا، لیکن اس معاملے میں وہ اسرائیلی جنگجوؤں کے ساتھ کھڑے ہیں جو امریکی پیسے اور اسلحے کے سہارے ایک تباہ کن مہم پر نکلے ہیں جس سے مشرق وسطیٰ میں آگ لگ سکتی ہے۔
اسی طرح، وزیر اعظم بن یامین نتن یاہو کی جانب سے ایرانی عوام سے اپیل کہ وہ اپنی حکومت کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں اور ‘آزادی’ حاصل کریں، ایک مذاق معلوم ہوتا ہے۔ اسرائیل نے جاری جارحیت کے دوران متعدد ایرانی شہریوں کو ہلاک اور زخمی کیا ہے۔ نتن یاہو، جو ایرانیوں کی آزادی کے بارے میں فکرمند ہیں، بظاہر فلسطینیوں کو بھی زندگی اور آزادی کا حق دینے کے قائل نہیں ہیں، جیسا کہ غزہ میں ہونے والے قتل عام سے ظاہر ہوتا ہے۔
امن کی امیدیں مایوسی کی طرف بڑھ رہی ہیں اور دنیا، خاص طور پر ایران کے پڑوسی ممالک، بشمول پاکستان اور مشرق وسطیٰ کے دیگر ممالک، کو طویل مدتی جغرافیائی سیاسی اتھل پتھل اور معاشی دھچکوں کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ خطہ دنیا کی تجارت اور توانائی کے اہم مراکز میں شامل ہے، اور اگر یہ تنازعہ جاری رہا اور شدت اختیار کر گیا تو عالمی نظام پر اس کے گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔
ایران کے پڑوسی ہونے کے ناطے پاکستان خاص طور پر خطرے سے دوچار ہے، اور ریاست کو آنے والے حالات کے لیے تیار رہنا چاہیے، جبکہ ایران میں موجود پاکستانی زائرین اور وزیٹرز کو بحفاظت وطن واپس لانے کی کوششیں بھی کرنی چاہئیں۔




