استنبول: ترکی کی عدالت نے اتوار کے روز معروف آزاد صحافی فاتح آلتاےلی کو صدر رجب طیب اردوان کو سوشل میڈیا پر مبینہ طور پر دھمکی دینے کے الزام میں گرفتار کر لیا۔ ترک نشریاتی ادارے این ٹی وی کے مطابق، آلتاےلی نے ایک ویڈیو میں عوامی سروے کی بات کی تھی جس میں ترک عوام کی اکثریت اردوان کے تاحیات حکمرانی کے خلاف نظر آئی۔
آلتاےلی نے ویڈیو میں عثمانی حکمرانوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ترک عوام نے بعض حکمرانوں کو اقتدار سے ہٹانے کے لئے قتل یا غرق کیا تھا۔ استنبول کے پراسیکیوٹرز نے ان بیانات کو صدر کے خلاف دھمکی آمیز قرار دیتے ہوئے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
عدالتی پیشی کے دوران، آلتاےلی نے اردوان کو دھمکی دینے کی تردید کی اور کہا کہ ان کے بیانات کو غلط سیاق و سباق میں پیش کیا گیا۔ انہوں نے وضاحت کی کہ یہ صرف تاریخی مباحثہ تھا اور کسی بھی قسم کی دھمکی نہیں تھی۔
یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی ہے جب حالیہ مہینوں میں اپوزیشن رہنماؤں کی گرفتاریوں کا سلسلہ جاری ہے، جس میں مارچ میں استنبول کے میئر اکرم امام اوغلو کی گرفتاری بھی شامل ہے، جو اردوان کے اہم سیاسی حریف ہیں۔
ترکی کی اہم اپوزیشن پارٹی سی ایچ پی اور بعض مغربی ممالک نے اس کارروائی کو اردوان کے سیاسی حریفوں کو انتخابی میدان سے ہٹانے کی کوشش قرار دیا ہے۔ تاہم، حکومت ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہتی ہے کہ عدالتیں آزاد ہیں اور حکومت ان کے معاملات میں مداخلت نہیں کرتی۔
