پیرس: نئے تعلیمی سال کی شروعات کے موقع پر وزیر تعلیم ایلیسبتھ بورن نے ایک اہم پریس کانفرنس میں نوٹس میں آنے والی تعلیمی تبدیلیوں کو اجاگر کیا۔ یہ تبدیلیاں یکم ستمبر سے نافذ العمل ہوں گی۔ آئندہ پیرسے اسکولوں میں طلباء کے لیے نئی پالیسیوں کا آغاز ہوگا۔
موبائل فون کے استعمال پر پابندی
وزیر تعلیم نے اسکولوں میں موبائل فون کے استعمال پر مکمل پابندی کی توثیق کی۔ گرچہ ۲۰۱۸ میں ایک قانون منظور ہوا تھا، لیکن اس کے نفاذ میں مشکلات کا سامنا تھا۔ نئے سال میں اس قانون کی سختی سے عمل داری کو یقینی بنایا جائے گا۔
بیکیلاوریٹ اور سرٹیفیکیشن میں تبدیلیاں
نیا تعلیمی سال بیکیلاوریٹ کے امتحان میں تبدیلیاں لائے گا، جس میں اب ریاضی کی نئی تحریری پرچہ شامل ہو گا۔ وزیر تعلیم نے اعلان کیا کہ امتحان کا مقصد موجودہ قوانین کے تحت حاصل ہونے والی قابلیت اور یونیورسٹی سطح پر کامیابی کی اہلیت کو بڑھانا ہے۔
جنسی تعلیم اور صحت کے حوالے سے اقدامات
تعلیمی اداروں میں جنسی تعلیم کے نئے پروگرامز متعارف کروائے جائیں گے۔ وزیر تعلیم نے صحت ذہنی اور جسمانی صحت کے فروغ کے لیے مخصوص کاؤنسلرز کی تعیناتی کا وعدہ بھی کیا ہے، جس کے تحت ہر اسکول میں ۳۰ منٹ کی روزانہ جسمانی سرگرمی کو یقینی بنایا جائے گا۔
دیگر اقدامات
مزید برآں، وزیر نے تعلیمی اداروں میں ہتھیار لانے پر سخت کاروائی کی جانب اشارہ کیا، جس کے تحت طالب علم کو ڈسپلنری کمیٹی کا سامنا کرنا پڑے گا اگر وہ کوئی ہتھیار لاتا ہے۔
یہ تبدیلیاں آنے والے تعلیمی سال کی اہم خصوصیات ہوں گی، جو طلباء کی تعلیم اور تربیت کو بہتر بنانے کی سمت میں ایک نیا قدم ہیں۔
