افغانستان کے مشرقی علاقے کو اتوار کی رات آنے والے زلزلے نے ہلا کر رکھ دیا ہے، جس کے نتیجے میں 622 افراد جان کی بازی ہار گئے جبکہ 1500 سے زائد زخمی ہوگئے۔ افغان وزارت داخلہ کے ترجمان عبدال متین قانی نے بتایا کہ زلزلہ کی شدت 6 ریکارڈ کی گئی۔
امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق زلزلے کا مرکز ننگرہار صوبے میں صرف آٹھ کلومیٹر کی گہرائی میں تھا جہاں زلزلے کے بعد کم از کم پانچ آفٹر شاکس آئے، جن میں سے ایک کی شدت 5.2 تھی۔ طالبان حکام نے اس علاقے میں امدادی کارروائیاں تیز کر دی ہیں اور امدادی ہیلی کاپٹر روانہ کر دیے ہیں۔
2021 میں طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد سے ملک کو زلزلوں جیسے قدرتی آفات کا سامنا رہا ہے۔ 2023 میں، ہرات میں آنے والے زلزلے نے 1500 سے زیادہ افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا اور 63,000 سے زائد گھر تباہ کر دیے۔
افغانستان زلزلے کے لحاظ سے حساس خطہ ہے، خاص طور پر ہندو کُش پہاڑی سلسلے میں جو یوریشیائی اور بھارتی ٹیکٹونک پلیٹس کا مقام ہے۔ موجودہ زلزلہ رات کے وقت رونما ہوا اور انتہائی شدید تھا، جس کی لرزش کابل اور پاکستان کے شہر اسلام آباد میں بھی محسوس کی گئی۔
ننگرہار صوبہ پہلے ہی سیلاب کی آفت کا شکار رہا ہے، جہاں گزشتہ ہفتے اچانک آنے والے سیلاب نے پانچ افراد کو ہلاک اور وسیع پیمانے پر تباہی مچائی۔
افغان حکام نے خبردار کیا ہے کہ اصل نقصان کا اندازہ لگانا ابھی باقی ہے کیونکہ متاثرہ علاقے دور دراز اور دشوار گزار ہیں۔
اقوام متحدہ کی افغانستان میں تعینات مشن نے زلزلے سے متاثرہ لوگوں سے گہری ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی ٹیمیں امدادی کاموں میں سرگرم ہیں۔
افغانستان کا شمار دنیا کے غریب ترین ممالک میں ہوتا ہے، جہاں تقریباً نصف آبادی غربت میں زندگی گزار رہی ہے۔ زلزلے کی اس تباہی کے بعد مزید امداد کی ضرورت بڑھ گئی ہے۔
