جلال آباد: افغانستان کے مشرقی صوبوں میں 6.0 شدت کے زلزلے نے تباہی مچا دی ہے، جس کے نتیجے میں تقریباً 250 افراد کے جاں بحق ہونے اور 530 کے زخمی ہونے کا خدشہ ہے، حکام نے پیر کے روز بتایا کہ ہیلی کاپٹرز کی مدد سے زخمیوں کو ملبے سے نکال کر محفوظ مقام پر منتقل کیا جا رہا ہے۔
زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں ملبے کے نیچے مزید افراد کے پھنسے ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ حکام کے مطابق زلزلے کے شدید جھٹکے کنڑ اور لغمان صوبوں میں محسوس کیے گئے، جہاں ریسکیو ٹیمیں امدادی کاموں میں مصروف ہیں۔
افغان حکومتی خبر رساں ادارے بختار نیوز ایجنسی نے کہا کہ کنڑ اور لغمان کے اضلاع نوشہر، چکوا، وٹاپور، منوگی اور چاپہ دارہ سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔
مقامی ٹی وی چینل طلوع نیوز نے قدرتی آفات تیاری اتھارٹی کے حوالے سے بتایا ہے کہ “اعداد و شمار ابھی مرتب کیے جارہے ہیں اور متاثرہ علاقوں کے لوگوں سے رابطے میں رہتے ہوئے مزید تفصیلات جمع کی جا رہی ہیں”۔
وزارت صحت کے ترجمان شرافت زمان کا کہنا ہے کہ ابتدائی اطلاعات کے مطابق تین دیہات مکمل طور پر تباہ ہو چکے ہیں جبکہ دیگر دیہات کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔
زلزلے کے بعد ابھی تک کسی بھی ملک نے افغانستان کی جانب ریسکیو یا امداد کے کام میں مدد کے لیے رجوع نہیں کیا۔
گزشتہ برس بھی افغانستان کے مغربی علاقے میں شدید زلزلے کی وجہ سے ایک ہزار سے زیادہ افراد جاں بحق ہوئے تھے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملک قدرتی آفات کے آگے کتنا بے بسی کا شکار ہے۔
وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے گھروں کی تباہی پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا، “میری دعائیں اور ہمدردیاں ان خاندانوں کے ساتھ ہیں جنہوں نے اپنے پیاروں کو کھو دیا”۔
رپورٹس کے مطابق صرف چند کلینکس میں 400 سے زائد افراد کے زخمی ہونے اور درجنوں ہلاکتوں کی اطلاع ملی ہے، جبکہ کنڑ کے اطلاعاتی حکام کے مطابق متاثرین کی تعداد میں مزید اضافے کا خدشہ ہے۔
افغانستان ہندوکش کی ان پہاڑیوں میں ہے جہاں بھارتی اور یوریشائی ٹیکٹونک پلیٹیں ملتی ہیں، یہ علاقہ زلزلوں کا گھڑ ہے۔ گزشتہ سال وہاں زلزلے نے تقریباً 1,000 سے زیادہ لوگوں کی جان لے لی تھی۔
