وزیراعظم فرانسیوا بایرو کی زیرقیادت موجودہ فرانسیسی حکومت اپنی سیاسی بقا کے خطرے کے باوجود توانائی کے منتقلی اور عمارتوں کی جدید کاری سے متعلق کئی اہم اقدامات پر 8 ستمبر 2025 تک عملدرآمد کرنا چاہتی ہے۔ یہ تمام ترقیاتی منصوبے پارلیمانی اعتماد کے ووٹ سے قبل مکمل کیے جانے ضروری ہیں جو حکومت کی مستقبل کی راہ متعین کریں گے۔
وزیر توانائی مارک فیوراچی اور وزیر رہائش ویلیری لیٹارڈ نے اس ہفتے ہی پارلیمانی مشاورتی کونسلوں کے اجلاس منعقد کرکے متعدد ڈیکریز اور آرڈیننسز پر منظوری کے مراحل تیز کر دیے ہیں۔ ان میں ‘مہ پرائم رینو’ ہاؤسنگ ریفارم پروگرام، الیکٹرک گاڑیوں کی خریداری پر سبسڈی، اور شمسی پینلز پر ٹیکس مراعات جیسے اہم معاملات شامل ہیں۔
‘مہ پرائم رینو’ اسکیم کے تحت عمارتوں کی توانائی کی بچت کی جدید کاری کے لیے مالی امداد دی جاتی ہے، جسے 30 ستمبر تک نئے قواعد کے تحت جاری رکھا جائے گا۔ تاہم بجٹ کی کمی کے پیش نظر بائیو ماس بوائلرز اور دیواروں کے انسولیشن جیسے منصوبوں سے مالی معاونت واپس لے لی گئی ہے، جس پر صنعتی حلقوں نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔
الیکٹرک گاڑیوں کی خریداری پر دی جانے والی مراعات اب یورپی یونین میں تیار کردہ گاڑیوں تک محدود کر دی گئی ہیں، جبکہ شمسی توانائی کے پینلز پر ٹیکس میں چینی مصنوعات کو خارج کر دیا گیا ہے۔ ان تمام اقدامات کا مقصد سرکاری خسارے میں اضافے کے بغیر توانائی کے شعبے میں ترقی کو یقینی بنانا ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ اصلاحات فرانس میں توانائی کے تحفظ اور ماحولیاتی تبدیلی کے حوالے سے اہم کردار ادا کریں گی، لیکن حکومت کی سیاسی عدم استحکام ان کے مستقل ہونے پر سوالیہ نشان ہے۔
