بیجنگ (ڈان/اے پی پی) وزیراعظم شہباز شریف اور چینی وزیراعظم لی چیانگ نے چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے دوسرے مرحلے پر مشترکہ کام جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ دونوں رہنماؤں کے مابین ہونے والی ملاقات کے دوران کاروباری اداروں نے 4.2 ارب ڈالر کے یاداشت ناموں (ایم او یوز) پر دستخط کیے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے اس ملاقات کو “انتہائی مثبت اور کارآمد” قرار دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک سی پیک 2.0 کے تحت پانچ نئے اقتصادی راہداریوں پر کام کریں گے۔ انہوں نے چینی کمپنیوں سے پاکستان میں اپنے سرمایہ کاری کے دائرہ کار کو بڑھانے کی دعوت دی۔
پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ کے مطابق، وزیراعظم نے سی پیک کے پہلے مرحلے کی پاکستان کی معاشی ترقی میں اہم کردار پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے میں لائن ون ریلوے منصوبہ، قراقرم ہائی وے کی ازسرنو تعمیر اور گوادر پورٹ کے فعال ہونے کی ضرورت پر زور دیا۔
چینی وزیراعظم نے پاکستان کو “پختہ بھائی” اور “ہمہ موسم دوست” قرار دیتے ہوئے اقتصادی تعاون کو نئی بلندیوں تک پہنچانے کا عزم ظاہر کیا۔ دونوں رہنماؤں نے 2024-2029 کے مشترکہ ایکشن پلان پر دستخط کیے، جسے تعلقات کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا گیا۔
وزیراعظم شہباز نے چینی سرمایہ کاروں کو تحفظ کی یقین دہانی کرائی اور کہا کہ پاکستان میں چینی شہریوں کی حفاظت ہمارے لیے انتہائی اہم ہے۔ انہوں نے صنعتی تعاون، زراعت، ٹیکسٹائل، آئی ٹی اور معدنیات کے شعبوں میں باہمی تعاون کے وسیع امکانات پر روشنی ڈالی۔
اس موقع پر پاکستان اور چین کی کمپنیوں کے درمیان 4.2 ارب ڈالر کے 21 معاہدوں پر دستخط ہوئے۔ وزیراعظم نے چینی صدر شی جن پنگ کی وژنری قیادت کو پاک چین تعلقات کی مضبوطی کی بنیاد قرار دیا۔
یاد رہے کہ وزیراعظم شہباز شریف چھ روزہ دورے پر چین میں ہیں، جہاں وہ شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) سربراہی اجلاس میں شرکت کے بعد چینی رہنماؤں سے ملاقاتوں کے سلسلے میں مصروف ہیں۔
