لاہور: پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے بدھ کے روز کسی بھی سیاسی جماعت پر پابندی کے خیال کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ خیبر پختونخوا میں گورنر رول ان کی یا ان کی جماعت کی طرف سے کوئی مطالبہ نہیں ہے۔
ان خیالات کا اظہار ایسے وقت میں ہوا ہے جب پاکستان مسلم لیگ (ن) کی زیرقیادت وفاقی حکومت کے کئی وزراء نے پاکستان تحریک انصاف پر مبینہ “ریاست مخالف” اور “فوج مخالف” بیانیے کے باعث اس پر پابندی کا مطالبہ کیا ہے۔
لاہور میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا، “میں کسی سیاسی جماعت پر پابندی کے حق میں نہیں ہوں، لیکن خیبر پختونخوا کی جماعت کو اپنا رویہ بہتر بنانا ہوگا۔”
گورنر رول کا امکان اور سلامتی کے خطرات
پیپلز پارٹی چیئرمین نے خبردار کیا کہ جاری دہشت گردی مخالف آپریشنز میں مداخلت سنگین مسائل پیدا کرسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کوئی سیاسی جماعت دہشت گردوں کے لیے معاون بن جائے تو گورنر رول نافذ کرنا ناگزیر ہوسکتا ہے۔
خیبر پختونخوا کی حکومت کو ہٹانے کے بارے میں بحث اس وقت شدت اختیار کرگئی جب وزیر برائے قانون عقیل ملک نے کہا کہ وفاقی حکومت صوبے میں سلامتی کی صورت حال اور ناقص حکمرانی کو مدنظر رکھتے ہوئے گورنر رول نافذ کرنے پر “سنجیدگی سے غور” کررہی ہے۔
پی ٹی آئی کی رابطے کی کوشش اور سیاسی مذاکرات
بلاول کی سیاسی جماعتوں پر پابندی کے بارے میں یہ ریمارکس ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب رپورٹس ہیں کہ پی ٹی آئی نے ملٹی پارٹی اپوزیشن اتحاد تحریک تحفظ آئین پاکستان کے ذریعے مرکز میں مسلم لیگ (ن) کی اتحادی پیپلز پارٹی سے رابطے شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
ذرائع کے مطابق سیاسی مکالمے کے طریقوں کو تلاش کرنے کے لیے دو روزہ قومی کانفرنس میں پیپلز پارٹی کو شرکت کی دعوت دی جائے گی۔ ذرائع نے بتایا کہ حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) کو اس کانفرنس میں مدعو نہیں کیا جائے گا۔
ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی نے حکومت کے ساتھ کسی بھی ممکنہ مذاکرات کو محمود اچکزئی سمیت سیاسی اتحادیوں اور جیل میں موجود پی ٹی آئی بانی عمران خان کے درمیان ملاقات سے مشروط کردیا ہے۔
افغانستان سے خطرات اور اندرونی سیاست
پیپلز پارٹی چیئرمین نے پاکستان کی سلامتی کی صورتحال پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا، “خیبر پختونخوا میں جنگی صورت حال پیدا ہورہی ہے۔” انہوں نے پنجاب کی وزیراعلی مریم نواز کے سندھ سے انتخابات لڑنے کے خیال کو خوش آمدید کہتے ہوئے تمام جماعتوں پر زور دیا کہ وہ صوبے میں ہونے والے انتخابات میں حصہ لیں۔
سابق وزیر خارجہ نے کہا کہ افغانستان کی طرف سے خطرات حقیقی ثابت ہورہے ہیں، جہاں سے دہشت گرد پاکستانی سرزمین پر حملے کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا، “یہ ایک سنگین خطرہ ہے اور ہماری مسلح افواج اس چیلنج کا مقابلہ کررہی ہیں۔”
اندرونی سیاسی حرکیات کو مخاطب کرتے ہوئے بلاول نے اداروں کو کمزور کرنے کی کوشش کرنے والی “سیاسی قوتوں” پر تنقید کی اور تمام جماعتوں پر زور دیا کہ وہ سیاست کو حدود میں رکھیں۔
انہوں نے کہا، “ایک سیاسی جماعت ‘سیاسی دجال’ کی طرح کام کررہی ہے۔ وہ عوام اور مسلح افواج کے درمیان دوری پیدا کرنا چاہتی ہے۔” انہوں نے سیاسی جماعت پر زور دیا کہ وہ اپنا رویہ بہتر بنائے۔
