تہران: ایران میں احتجاجی تحریک کے دوران جلاوطن شاہی خاندان کے سربراہ رضا پہلوی نے عوام سے ہڑتالوں کے ذریعے شہروں کے مراکز پر قبضے کی تیاری کا اعلان کر دیا ہے۔
ہڑتال اور عوامی قبضے کی اپیل
گذشتہ شام سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپیل میں رضا پہلوی نے کہا، “ہمارا مقصد محض سڑکوں پر احتجاج نہیں رہا، بلکہ اب ہمیں شہروں کے مراکز پر قبضے اور ان کی حفاظت کی تیاری کرنی ہے۔” انہوں نے ملک بھر کے کارکنوں سے اہم شعبوں جیسے ٹرانسپورٹ، تیل، گیس اور توانائی میں ہڑتال کا آغاز کرنے کی اپیل کی۔
انٹرنیٹ بندش اور بین الاقوامی ردعمل
این جی او نیٹ بلاکس کے مطابق ملک بھر میں انٹرنیٹ سروسز معطل ہیں، جس کے باعث اطلاعات کا بہاؤ شدید متاثر ہوا ہے۔ اس صورتحال میں ایرانی ایکٹیوسٹ الیا ہاشمی نے ٹیلی گرام پر تہران کی سڑکوں پر ہجوم کی ویڈیوز شیئر کی ہیں۔
- امریکی سیکرٹری آف اسٹیٹ مارکو روبیو نے ایرانی عوام کے حق میں اظہار یکجہتی کیا
- یورپی یونین نے احتجاجوں کی مکمل حمایت اور حکومتی کارروائیوں کی مذمت کی
- لندن میں ایرانی سفارتخانے پر پرانے شاہی پرچے کا پرچم لہرایا گیا
فلم سازوں کی حکومت پر تنقید
معروف ایرانی فلم ساز جعفر پناہی اور محمد رسولوف نے احتجاجیوں پر جاری حکومتی کارروائیوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے مواصلاتی ذرائع کاٹ کر عالمی برادری سے رابطہ روک دیا ہے۔
حکومتی ردعمل اور ہلاکتیں
ایران ہیومن رائٹس کے مطابق احتجاجوں میں اب تک کم از کم 51 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں 9 بچے بھی شامل ہیں۔ رہبر اعلیٰ آیت اللہ خامنہ ای نے احتجاجیوں کو “باغی” قرار دیتے ہوئے کسی قسم کے سمجھوتے سے انکار کر دیا ہے۔
فوجی ترجمان کے مطابق ایرانی فوج قومی مفادات کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔ سرکاری ٹی وی پر سلامتی فورسز کے اراکین کی تدفین کی تقاریب کی نشریات جاری ہیں۔
یہ احتجاجی لہر 2022 میں مہسا امینی کی ہلاکت کے بعد سب سے بڑی عوامی تحریک قرار دی جا رہی ہے، جس کا آغاز مہنگائی کے خلاف احتجاج سے ہوا تھا۔
