نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے خبردار کیا کہ یہ اقدام علاقائی امن کے لیے سنگین نتائج کا حامل ہو سکتا ہے
جمعہ کے روز جدہ میں منعقدہ او آئی سی وزرائے خارجہ کونسل کے غیر معمولی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان صومالیہ کی ترقی اور استحکام کو نقصان پہنچانے والے کسی بھی قدم کی اجازت نہیں دے گا۔ انہوں نے اسرائیل کے حالیہ اقدام کو بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ خطے میں امن و استحکام کے لیے سنگین اور دور رس نتائج کا حامل ہو سکتا ہے۔
او آئی سی کا مشترکہ موقف اور قرارداد
تنظیم تعاون اسلامی کے سیکرٹری جنرل حسین ابراہیم طاہا نے کہا کہ اسرائیل کا ’صومالی لینڈ‘ کو تسلیم کرنے کا فیصلہ ایک خطرناک مثال قائم کرتا ہے جو بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہے۔ او آئی سی کی قرارداد میں وفاقی جمہوریہ صومالیہ کی خودمختاری کے لیے مکمل حمایت کا اظہار کیا گیا اور کسی بھی ایسے اقدام کی سختی سے مذمت کی گئی جو صومالیہ کی وحدت، علاقائی سالمیت یا خودمختاری کو کمزور کرے۔
فلسطینیوں کی جبری بے دخلی کے منصوبوں کی مذمت
اجلاس میں فلسطینی مسئلے پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے فلسطینیوں کو ان کی زمینوں سے بے دخل کرنے کے کسی بھی منصوبے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ جبری بے دخلی بین الاقوامی قانون کی واضح خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے فلسطینی عوام کے حق خودارادیت کے لیے پاکستان کی مکمل حمایت کا اعادہ کیا۔
مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے پاکستان کا موقف
نائب وزیراعظم نے بھارت کے غیر قانونی طور پر مقبوضہ جموں و کشمیر (آئی آئی او جے کے) میں صورت حال پر بھی بات کی۔ انہوں نے کہا کہ یہ تنازعہ جنوبی ایشیا میں تنازعات کا بنیادی ذریعہ اور ایک جوہری خطرہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کے تحت کشمیری عوام کی خواہشات اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق اس تنازعے کے پرامن حل کے لیے نئی اور اجتماعی کوششوں کی فوری ضرورت ہے۔
او آئی کی قرارداد کے اہم نکات
- اسرائیلی اقدام کو بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کے چارٹر اور ریاستی خودمختاری کے بنیادی اصولوں کی خلاف ورزی قرار دیا گیا۔
- صومالیہ کی سرزمین پر کسی غیر ملکی فوجی، سیکیورٹی یا خفیہ موجودگی، خاص طور پر اسرائیلی موجودگی کو مسترد کیا گیا۔
- تمام ممالک اور بین الاقوامی تنظیموں سے اپیل کی گئی کہ وہ صومالیہ کی قومی خودمختاری کے دائرے سے باہر ’صومالی لینڈ‘ کے حکام کے ساتھ کسی بھی قسم کے سرکاری تعلقات سے گریز کریں۔
- فلسطینیوں کی جبری بے دخلی کے اسرائیلی منصوبوں کے ساتھ کسی بھی تعاون کو بین الاقوامی انسانی قانون کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا گیا۔
او آئی سی نے اپنے سیکرٹری جنرل پر زور دیا کہ وہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل، جنرل اسمبلی اور سیکرٹری جنرل سے اسرائیلی اقدامات کی سنگینی کو اجاگر کریں۔ تنظیم نے بین الاقوامی برادری، خاص طور پر سلامتی کونسل کے مستقل اراکین، سے اپیل کی کہ وہ ہارن آف افریقہ میں بین الاقوامی امن و سلامتی کے تحفظ کے لیے اپنی قانونی اور اخلاقی ذمہ داریوں کو پورا کریں۔
