رکارڈ توڑ سیاحوں کے باوجود، تبدیلی کا وقت آگیا
اسپین نے گذشتہ سات دہائیوں سے ‘سن اینڈ بیچ’ یا ‘سورج اور ساحل’ کے سستے پیکجز کے ذریعے دنیا بھر سے سیاحوں کو اپنی طرف کھینچا ہے۔ یہ ماڈل اتنا کامیاب رہا کہ ملک میں سیاحوں کی تعداد ہر سال نئے ریکارڈ قائم کرتی رہی۔ 2025ء میں 97 ملین سیاحوں نے اسپین کا رخ کیا۔ تاہم، اب یہ نمو سست پڑتی نظر آ رہی ہے۔ 2025ء میں سیاحوں میں اضافے کی شرح محض 2 فیصد رہی، جو 2023ء کے 19 فیصد اور 2024ء کے 10 فیصد کے مقابلے میں نمایاں کمی ہے۔
کم سیاح، مگر زیادہ آمدنی: حکومت کا نیا ایجنڈا
دلچسپ بات یہ ہے کہ سیاحوں کی تعداد میں اضافہ کم ہونے کے باوجود، ان کی اخراجات کی شرح میں تیزی آئی ہے۔ جنوری سے نومبر 2025ء کے دوران غیر ملکی سیاحوں کے اخراجات میں تقریباً 7 فیصد اضافہ ہوا، جو 126 ارب یورو تک پہنچ گیا۔ اسپین کی وزارت سیاحت کے مطابق یہ رجحان اتفاقی نہیں بلکہ ایک سوچی سمجھی حکمت عملی کا نتیجہ ہے۔ وزارت کا کہنا ہے کہ وہ ایک نئے، زیادہ پائیدار سیاحتی ماڈل کی طرف بڑھ رہے ہیں جو ‘کمیت کے بجائے معیار’، سیاحتی مقامات کی غیر مرکزیت، موسمیت میں کمی اور پیشکش میں تنوع پر زور دیتا ہے۔
عوامی بے چینی اور ماحولیاتی چیلنجز
اس تبدیلی کی کئی وجوہات ہیں۔ مقامی آبادی سیاحوں کی بڑی تعداد سے تنگ آ چکی ہے، جس نے رہائشی بحران کو جنم دیا ہے۔ موسمیاتی تبدیلی، خاص طور پر پانی کی قلت اور جنگلات کی آگ جیسے واقعات، اسپین کے سیاحتی معیشت کے لیے ایک بڑا خطرہ بن چکے ہیں۔ اس کے باوجود، حکومت کے لیے صورتحال نازک ہے، کیونکہ سیاحت ملکی جی ڈی پی کا 15 فیصد حصہ ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اسپین ‘سیاحوں کی کثرت’ کے خلاف کھل کر بات نہیں کر سکتا، لیکن وہ ‘سیاحت کو ایک نئے انداز’ میں ڈھالنے کی کوشش کر رہا ہے۔
تبدیلی کی راہ میں رکاوٹیں
تبدیلی کا سفر آسان نہیں۔ پچھلے 70 سالوں میں بنیادی ڈھانچہ اور سوچ دونوں ہی بڑے پیمانے پر سیاحت کے اردگرد تشکیل پا چکے ہیں۔ ماہرین کے مطابق، “ایک عظیم جہاز کا رخ موڑنا مشکل کام ہے۔” مقامی حکام پر بڑے ٹور آپریٹرز کا دباؤ بھی ایک مسئلہ ہے، جیسا کہ جزائر بلیبارک کی ایکو ٹیکس واپس لینے کے معاملے میں دیکھا گیا۔
‘صرف سمندر نہیں’: نئی حکمت عملی کا آغاز
ان تمام چیلنجز کے پیش نظر، اسپین کی نئی حکمت عملی ‘سن اینڈ بیچ’ سے ہٹ کر ‘ماس کیو مار’ (صرف سمندر نہیں) کی طرف جا رہی ہے۔ اس کا مقصد سیاحوں کو ساحل سے ہٹ کر ملک کے اندرونی حصوں، دیہی علاقوں، ثقافتی ورثے اور مقامی ذائقوں کی طرف راغب کرنا ہے۔ اس ‘اپ گریڈیشن’ کا مقصد ایسے سیاحوں کو اپنی طرف کھینچنا ہے جو فی کس زیادہ خرچ کریں گے اور مقامی ثقافت میں گہری دلچسپی رکھتے ہیں۔
مستقبل کی راہ: پائیداری اور توازن
ماہرین کا خیال ہے کہ بڑے پیمانے پر سیاحت یکلخت ختم نہیں ہو گی، لیکن اس کے ساتھ ساتھ ایک نئے ماڈل کی ضرورت ہے جو ماحولیاتی تبدیلیوں کے دباؤ کو برداشت کر سکے۔ اس میں سیاحوں کے بہاؤ کو مختلف خطوں اور سال کے مختلف اوقات میں پھیلانا، پانی جیسے وسائل کا بہتر انتظام، اور نئی پالیسیاں اور قوانین شامل ہیں۔ اسپین کا مقصد اب صرف تعداد نہیں، بلکہ ایسا سیاحتی نظام تعمیر کرنا ہے جو معاشی طور پر مضبوط ہونے کے ساتھ ساتھ اپنے ماحول اور مقامی معاشروں کے لیے بھی پائیدار ہو۔
