کراچی: علم و ادب کے دلدادہ افراد کا سب سے بڑا سالانہ اجتماع، سترہواں کراچی لٹریچر فیسٹیول (کے ایل ایف) جمعہ کے روز ‘ادب ایک نازک دنیا میں’ کے مرکزی خیال کے تحت شروع ہو گیا۔
سنگین آغاز: گُل پلازہ اور اسلام آباد دھماکوں کے متاثرین کے لیے یکجہتی
اوکسفرڈ یونیورسٹی پریس پاکستان کے زیرِ اہتمام منعقد ہونے والے اس فیسٹیول کا آغاز انتہائی سنگین انداز میں ہوا، جہاں گزشتہ روز گُل پلازہ اور جمعہ کو اسلام آباد میں ہونے والے دھماکوں میں جاں بحق ہونے والے معصوم شہریوں اور ان کے اہلِ خانہ کے لیے ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی۔
وزیرِ اعلیٰ سندھ کا خطاب: ادب معاشرے کو روشن خیال بناتا ہے
تقریب کے مہمانِ خصوصی سندھ کے وزیرِ اعلیٰ سید مراد علی شاہ نے افتتاحی خطاب میں ادب اور ثقافت کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا، “عالمی عدم تحفظ کے اس دور میں ادب استحکام اور انسانیت کا ذریعہ ہے۔ اس سال کا مرکزی خیال ‘ادب ایک نازک دنیا میں’ بروقت اور انتہائی متعلقہ ہے۔”
منتظم کا پیغام: ادب شہری ضرورت ہے
فیسٹیول کے منتظم ارشد سعید حسین نے اپنے خیرمقدمی خطاب میں کہا، “ادب محض تفریح نہیں، بلکہ ایک شہری ضرورت ہے۔ یہ فیسٹیول ذمہ دارانہ جدت اور مشترکہ خوشحالی کی علامت ہے۔ مکالمہ ہمیشہ سے اس شہر کا ہنر رہا ہے۔ ہم سوال کرنے اور سمجھنے کے لیے یہاں جمع ہوئے ہیں۔”
بین الاقوامی نمائندگی: فرانس اور برطانیہ کی شرکت
فرانس کے قونصل جنرل الیکسس چاہتہ تنسکی نے کہا کہ “ہم علم، ثقافت اور تہذیب کا جشن منا رہے ہیں۔” برطانوی ڈپٹی ہائی کمشنر لانس ڈوم نے برطانوی مصنفین کو فیسٹیول میں لانے کے اپنے تعاون کا ذکر کیا۔
سینیٹر شیر رحمان کی کلیدی تقریر: ‘نئی عالمی بے ترتیبی’
سینیٹر شیر رحمان نے ‘نئی عالمی بے ترتیبی’ پر اپنی کلیدی تقریر میں زور دیا کہ “موسمیاتی کانفرنسیں مہنگی اور بااختیار طبقے تک محدود ہیں۔ اگر آپ میز پر نہیں ہیں، تو آپ مینو میں ہیں۔ کراچی لٹریچر فیسٹیول کراچی کی روح بن چکا ہے۔ اس وقت دنیا کو علم اور ادب کی شدید ضرورت ہے۔”
تین روزہ علمی و ثقافتی تقریبات کا آغاز
یہ افتتاحی تقریب تین روزہ جشن کا آغاز ہے، جس میں مصنفین، مفکرین اور قارئین ادب و ثقافت کے مختلف پہلوؤں پر تبادلۂ خیال کریں گے۔ فیسٹیول میں متعدد سیشنز، کتابوں کی نمائش اور ثقافتی پروگرامز شامل ہیں۔
