عالمی طاقتوں کا احتیاط اور مذاکرات پر زور
سرحدی جھڑپوں میں شدت کے بعد چین، روس، ایران اور اقوام متحدہ نے پاکستان اور افغانستان سے فوری طور پر حملے بند کرنے اور سفارتی راستہ اپنانے کی اپیل کی ہے۔ عالمی رہنماؤں نے دونوں ممالک سے کشیدگی میں اضافے روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔
آپریشن غضب للہق: پاکستان کا جوابی کارروائی
وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارار نے جمعے کے روز تصدیق کی کہ پاکستان نے افغان طالبان حکومت کی بے تحاشا جارحیت کے جواب میں 133 شدت پسندوں کو ہلاک اور 200 سے زائد کو زخمی کر دیا ہے۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق، پاکستان کی مسلح افواج نے افغان طالبان کے کئی اہم چوکیوں کو تباہ کر دیا، جس کے بعد طالبان نے متعدد مقامات پر سفید پرچم لہرا دیے۔
چین کی تشویش اور ثالثی کی پیشکش
چین نے پاکستان-افغانستان سرحد پر کشیدگی میں اضافے پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ چینی وزارت خارجہ کے ترجمان ماؤ ننگ نے کہا کہ بیجنگ اپنے ذرائع سے ثالثی کر رہا ہے اور صورتحال کو معمول پر لانے میں تعمیری کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔
روس نے حملے فوری بند کرنے کا مطالبہ کیا
روس نے افغانستان اور پاکستان سے سرحد پار حملے فوری طور پر بند کرنے اور اپنے اختلافات سفارتی ذرائع سے حل کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ روسی خبر ایجنسی آر آئی اے کے حوالے سے بتایا گیا کہ ماسکو دونوں فریقین کی درخواست پر ثالثی کی پیشکش پر غور کرے گا۔
ایران نے مذاکرات کی پیشکش کی
ایران نے بھی کشیدگی بڑھنے کے بعد افغانستان اور پاکستان کے درمیان مذاکرات کو آسان بنانے میں مدد کی پیشکش کی ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس آراغچی نے ایک پوسٹ میں کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران دونوں ممالک کے درمیان مکالمے اور تعاون کو بڑھانے کے لیے ہر قسم کی ضروری مدد فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔
اقوام متحدہ کا شہریوں کی حفاظت پر زور
جنوا میں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس حالات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اور وہ حالیہ کشیدگی سے پریشان ہیں۔ ان کے ترجمان سٹیفن ڈوجاریک نے کہا کہ گوتریس نے زور دیا کہ دونوں ممالک بین الاقوامی قانون کے تحت اپنی ذمہ داریوں کو پورا کریں اور شہریوں کی حفاظت کو فوری ترجیح دیں۔
ترکی سے رابطہ اور علاقائی امن پر تبادلہ خیال
وزارت خارجہ کے مطابق، نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ترکی کے وزیر خارجہ ہکان فیدان کے ساتھ ٹیلی فون پر بات چیت کی، جس میں دونوں رہنماؤں نے خطے میں امن و استحکام پر زور دیا اور ترقی پذیر حالات پر قریبی رابطے میں رہنے پر اتفاق کیا۔
